خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 245 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 245

خطابات مریم 245 خطابات وعدے جو اگلی صدی کے ساتھ وابستہ ہیں وہ پورے ہوں گے۔لیکن ہمارا بھی تو فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بندیاں ہونے کے لحاظ سے جو فرض ہم پر عائد ہوتا ہے وہ ادا کریں۔اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں اس کی بھیجی ہوئی تعلیم پر عمل کریں اس کی نعمتوں کی قدر کریں۔اس دنیا کی بھلائی اور تربیت کے لئے جو کامل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا تھا اس پر عمل کریں اور اپنے نمونہ سے اپنے علم سے اپنے اخلاق سے اپنے کردار سے اپنی قربانیوں سے بنی نوع انسان سے محبت سے دنیا پر ثابت کر دیں کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں جن سے وابستہ ہو کر ہی دنیا سے نفرت مٹائی جاسکتی ہے اور محبت ، امن اور آشتی قائم ہوسکتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کی تو غرض ہی يحي الدين ويقيم الشريعة ( تذكره صفحہ 55) تھی اور اسی پر چلنا ہمارا کام ہے۔دین اسلام کے باغ کی آبیاری اور شریعت کے احکام پر دنیا کو چلانا یہ جماعت احمدیہ کے افراد کا کام ہے اور جو اس پر قائم رہیں گے ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وَجَاعِلُ الّذینَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ القِيمة ( ال عمران : 56) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔” اور یہ آیت کہ وجَاعِلُ الّذینَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يوم القيمة بار بار الہام ہوئی اور اس قدر متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولاد کی طرح دل کے اندر داخل ہوگئی اس سے یقیناً معلوم ہوا کہ خدا وند کریم ان سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے“۔( مکتوب 12 جون 1883ء) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ بے شمار فضلوں کا مشاہدہ جماعت نے کیا اور کر رہی ہے۔آپ کے زمانہ میں آپ کے خلفاء کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اب پ کے خلفاء کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اپنے احسان سے ہر روک دور کرتا چلا گیا اور انعام پر انعام عطا فرمائے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ خدا کا دامن تھامے رہیں