خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 235 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 235

خطابات مریم 235 خطابات افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1980ء میری پیاری بچیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تم سب سے مل کر اور دیکھ کر دل بے حد خوش ہے کہ گلشن احمد میں بہار آئی ہوئی ہے۔جگہ جگہ سے چھوٹی چھوٹی پیاری بچیاں اپنے اجتماع میں شامل ہونے کے لئے آئی ہیں۔سب کے دل میں ایک ہی جذبہ ہے مرکز سلسلہ میں آنا ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلوں میں حصہ لینے کا، دین سیکھنے کا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی یہ جذبہ تم میں قائم رکھے اور ہمیشہ ہی مسابقت کی یہ روح تم میں قائم رہے جو آج قائم ہے یہ مسابقت کی روح صرف اور صرف مقابلہ جات کے لئے ہی نہ ہو، کھیلیوں ہی کیلئے نہ ہو بلکہ ہر نیکی اور ہر خوبی اور ہر بھلائی کے حاصل کرنے کیلئے ہو کہ میں ہی سب سے زیادہ نمازوں کی پابند ہوں۔سب سے زیادہ دعائیں کرنے والی ہوں۔سب سے زیادہ صفائی پسند ہوں ، سب سے زیادہ محنت کرنے والی ہوں ،سب سے آگے تعلیم میں نکلنے والی ہوں، سب سے زیادہ قرآن مجید کا ترجمہ سکھنے والی ہوں، سب سے زیادہ دینی علم سیکھنے والی ہوں۔ہر ایک کی کوشش ہو کہ اخلاق میرے سب سے اچھے ہوں، سب سے زیادہ سچ بولنے والی ، دیانتدار، خوش خلق ، غریبوں کی مدد کرنے والی ، صدقہ دینے والی، رحم کرنے والی اور انسان دوست ہو۔تا اسلام و احمدیت کا لگایا ہوا یہ باغ مختلف قسم کی خوشبوؤں سے ہر وقت مہکتا رہے اور اس پر کبھی خزاں نہ آئے۔میری پیاری بچیو! اس باغ کو ہرا بھرا رکھنے کیلئے ضرورت ہے کہ آپ میں اپنی ذمہ داری کا احساس ہو، دل میں دین کا درد ہو، اللہ تعالیٰ سے پیار ہو ، اس کے احکام پر عمل کرنے کا شوق ہو اور سب سے بڑھ کر یہ احساس ہو کہ سب سے بڑھ چڑھ کر میں نے کام کرنا ہے اگر میں نے کام نہ کیا تو دین کو نقصان پہنچے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ بچپن سے آپ کو کام کرنے کی تربیت دی جائے۔غلبہ اسلام کی