خطابات مریم (جلد دوم) — Page 234
خطابات مریم 234 خطابات یہ تزکیہ نفس کیسے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کی حد بندی کرنے سے خود حضور علیہ السلام فرماتے ہیں :۔خدا تعالیٰ خود ایسی جماعت تیار کر رہا ہے جو قرآن شریف کی ماننے والی ہوگی۔ہر ایک قسم کی ملونی اس میں سے نکال دی جائے گی اور ایک خالص گروہ پیدا کیا جاوے گا اور وہ یہی جماعت ہے۔اس لئے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کے احکام کے پورے پابند ہو جاؤ اور اپنی زندگیوں میں ایسی تبدیلی کرو جو صحابہ کرام نے کی تھی ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہیں دیکھ کر ٹھو کر کھائے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 468) اس سلسلہ میں مجھ پر اور سب عہدہ داروں پر اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین پر اور جماعت کے سرکردہ احباب کی خواتین پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہر لحاظ سے اپنا نیک نمونہ دکھانے کی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں اور کوشش بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو احسن طور پر ادا کرنے کی توفیق دے کہ نہ ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنیں نہ کسی کے لئے ٹھوکر کا۔پردہ کی طرف سے بہت بے پروائی ہورہی ہے جب نیکی کی اہمیت کا احساس کم ہو جائے تو بُرائی کا احساس بھی مٹ جاتا ہے لیکن جب یہ احساس پیدا ہو جائے کہ پردہ ہم لوگوں کی خاطر نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے حکم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آپ کی سنت کے اتباع میں کرتے ہیں تو بات اور ہو جاتی ہے۔میری بہنو! آپ کے طور طریق سے خدا نہ کرے اسلام کی اصل تصویر میں کوئی تبدیلی پیدا ہو اور اگلی نسلوں کیلئے تباہی کا موجب بنیں۔دعائیں کریں ، کوشش کریں کہ آپ خود بھی اچھا نمونہ پیش کریں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح تربیت کر سکیں۔خصوصاً بیٹیوں کی جنہوں نے اگلی نسل کی ماں بننا ہے۔آئندہ مستورات کی ترقی اور تربیت کا انحصار موجودہ نسل کی صحیح تربیت پر ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔(ماہنامہ مصباح اپریل 1980ء) ☆☆☆