خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 232 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 232

خطابات مریم 232 خطابات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ ایمان لانے کے باوجود دین میں بدعات داخل کرتے یا بد رسوم کی پیروی کرتے ہیں وہ منہ سے کہیں یا نہ کہیں زبان حال سے بھی وہ یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ خدائی احکام کو ان کی مرضی کے مطابق بدل دیا جائے۔سچی مسلمہ یعنی فرمانبردار بننے کی کوشش کریں۔یہی مقام ہے جس کے لئے آپ نے جد و جہد کرنی ہے ایسا نہ ہو کہ خلیفہ وقت کی ناراضگی اور پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی موجب بنیں۔اس کی ذمہ داری لجنہ اماء اللہ کی عہدیداران پر بھی ہے اور ہر احمدی گھرانہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّته ( بخاری کتاب الجمعۃ ) تم میں سے ہر شخص کی حیثیت ایک چرواہے کی ہے جس سے اس کے ریوڑ کے متعلق سوال کیا جائے گا۔پس دعائیں کریں اپنے لئے اپنی اگلی نسل کے لئے کہ غلط تربیت کے نتیجہ میں آپ ان کو جہنم میں جھونکنے والی نہ ہوں۔نگرانی کریں اُن کی صحیح نگرانی اور اصلاح کی کوشش کریں۔محبت اور پیار سے۔اعتراض کرنے سے نہیں ان میں دین سے محبت حکمت اور دین کے اصولوں میں چلنے کا شوق پیدا کرے۔انسان کو پتہ نہیں لگتا کس وقت وہ نفس کے پھندے میں آ جائے۔اس لئے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے۔اللَّهُمَّ اَحْفِظْنَا مِنْ شَرِوُرِ انْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا۔( بخاری کتاب الجمعه ) نفس کے پوشیدہ شر اور اعمال کے بُرے نتائج سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔انسان کا مال اور اولا دانسان کیلئے سب سے بڑے فتنہ کا باعث ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُ كُمْ فِتْنَةٌ ( الانفال: 29) اولاد کی ناجائز محبت میں انسان دوسرے کی حق تلفی کر جاتا ہے نا جائز کام کر جاتا ہے اسی طرح زیادتی مال بُرے کاموں پر اُکسا دیتی ہے۔اس سے بچے رہنا اور دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔پس کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا نہیں کر سکتا جب تک با وجود اولاد کے بے اولاد نہ ہو اور باوجود مال کے دل میں مفلس ومحتاج نہ ہو اور باوجود دوستوں