خطابات مریم (جلد دوم) — Page 231
خطابات مریم 231 خطابات کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان غلطیوں کو ڈھانپ لے۔دوسرا ضروری امر یہ ہے کہ انسان انسان ہے فرشتہ نہیں کہ اس سے غلطی نہ ہو۔اگر کوئی قصور ہو ، اخلاقی جرم ہو تو اس پر ندامت کا اظہار ضرور ہو۔دل میں پشیمانی ہو خدا کے حضور جھکے کہ غلطی ہوگئی معاف کر دے دوبارہ نہ کرنے کا ارادہ اور عزم کرے غلطی پر اصرار نہ کرے۔بہت سی غلطیاں معاشرہ میں اس لئے ہوتی ہیں کہ احساس گناہ مٹ جاتا ہے اور یہ سب سے خطرناک امر ہے جب تک انسان میں یہ احساس رہے گا اور اس کا ضمیر اس کو ملامت کرتا رہے گا کہ تم نے فلاں کام غلط کیا اپنی ناسمجھی کی بنا پر اس کی اصلاح کی صورت باقی رہتی ہے۔اسی لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نفس لوامہ کو بطور شہادت پیش کیا ہے اور اسلامی اصول کی فلاسفی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بڑی لطیف تشریح فرمائی ہے۔انگریزی میں کا نشس اور اُردو میں ضمیر کا لفظ عام بولا جاتا ہے۔ہر کام کرتے وقت انسان کا ضمیر اگر وہ بگڑ نہیں چکا تو ضرور را ہنمائی کرتا ہے کہ یہ کام کرنا چاہئے یا نہیں۔بُرا کام کر بھی لے گا تو ضمیر کی ملامت سے نہیں بچ سکتا۔یکم فروری 1980ء حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت کو آپ کے ہی شہر میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار رہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو دین میں بدعات اور بدرسوم کو رواج دینے اور ان کی پیروی کرنے کی ہلاکت آفرینی سے خبر دار فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔حضور نے فرمایا تھا کہ احباب جماعت پہلے خود اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگیوں میں انقلاب عظیم پیدا کریں۔پھر بنی نوع انسان کی زندگیوں میں انقلاب بر پا کرنا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام کی آیات کا مضمون بیان فرمایا تھا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا ہے کہ میں سب سے بڑا فرمانبردار ہوں اور اگر میں نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔پس ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ اگر جسم نے ذراسی بھی نافرمانی کی خدا تعالیٰ کے احکام کی تو یوم عظیم کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔