خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 230 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 230

خطابات مریم 230 خطابات درمیان کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔پس جو کوئی شبہات سے بچا اس نے اپنی عزت اور دین کو بچالیا اور جو کوئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے اردگرد اپنے جانوروں کو چرا تا ہے قریب ہے کہ اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔خبر دار ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں خبر دار جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جاتا ہے۔خبر دار وہ گوشت کا ٹکڑا دل ہے“۔( بخاری کتاب الایمان ) پس ایک مومن اور متقی کا یہی کام ہے کہ وہ محرمات کے ساتھ ساتھ ان کاموں سے بھی بچے اور محفوظ رہے جنہیں محرمات میں شامل تو نہیں کیا جاتا لیکن ان کے کرنے کے ساتھ ڈر ہے کہ جس طرح ایک چرواہا رکھ کے اندر جانور ڈال سکتا ہے انسان کا قدم گناہوں کی دلدل میں ایسا نہ پڑ جائے کہ نکل ہی نہ سکے اور اس کو ہی تقویٰ کا نام دیا گیا ہے۔متقی نیک کو نہیں کہتے۔متقی وہ ہے جو اپنے آپ کو بُرائیوں سے بچا کر رکھے۔قرآن کریم میں تقویٰ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارہ میں حضرت ابو ہریرہ سے کسی نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ کانٹوں والی جگہ پر سے گزرو تو کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا یا اس سے پہلو بچا کر چلا جاتا ہوں یا اس سے پیچھے رہ جاتا ہوں یا آگے نکل جاتا ہوں۔انہوں نے کہا بس اسی کا نام تقویٰ ہے۔یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مقام پر کھڑا نہ ہو اور ہر طرح اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔لَا تَحْقِرَنَّ صَغِيرَةً إِنَّ الْجِبَالَ مِنَ الْحَصَى تو چھوٹے گناہ کو حقیر نہ سمجھ کہ یہ ذراسی بات ہے کیا ہو گیا۔یہ یاد رکھ کہ بڑے بڑے پہاڑ چھوٹی کنکریوں سے ہی بنے ہوئے ہیں۔پس اپنی اصلاح اور اپنے رشتہ داروں، دوستوں و معاشرہ کی اصلاح کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ انسان کثرت سے استغفار پڑھے اپنی غلطیوں پر اپنے دوست احباب رشتہ داروں سب