خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 221 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 221

خطابات مریم 221 خطابات ولنجزِيَنَّهُمْ أَجْرُهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل: 98) ترجمہ : جو کوئی مومن ہونے کی حالت میں نیک اور مناسب حال عمل کرے گا مرد ہو کہ عورت ہم اس کو یقیناً ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم اُن تمام لوگوں کو اُن کے بہترین عمل کے مطابق ان کے تمام اعمال صالحہ کا بدلہ دیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کوئی تفریق نہیں کی کہ مرد کو زیادہ قربانی دینی چاہئے یا عورت کو کم۔نیک اور مناسب حال اعمال کرنے کے نتیجہ میں یکساں بشارت دی ہے اور مناسب حال عمل وہی قربانی ہوتی ہے جس کی اس زمانہ میں ضرورت ہو۔غلبہ اسلام کی جو مہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ شروع ہوئی اور جس کو آپ کے خلفاء وسعت دیتے رہے وہ کوئی تلوار کی جنگ نہیں تھی بلکہ روحانیت علم قربانی اور دعا کی مہم تھی جس کے نتیجہ میں غلبہ اسلام کا دن نزدیک سے نزدیک تر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری دنیا کے سامنے اسلام کی صداقت کو دلائل کے ساتھ پیش کیا۔اسلام کے غلبہ کے لئے دعائیں مانگیں۔آپ کی تربیت اور تعلیم کے نتیجہ میں آپ کے متبعین کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوا کہ انہوں نے خدا کی خاطر جانیں بھی دے دیں اور پرواہ نہیں کی۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کا واقعہ کس کو معلوم نہیں جس نے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا وہ ایک نیا انسان بن گیا۔انہیں قربانیوں کے سلسلہ کو آپ کے خلفاء نے جاری رکھا۔تربیت، تعلیم، تبلیغ، تعمیر مساجد، بیرون ممالک میں اسلام کی تبلیغ کے لئے مبلغین و معلمین کا بھیجوانا اور یہ سب کام کامیابی کے ساتھ ہوتے رہے ہیں اور ہر قدم ترقی کی طرف اُٹھ رہا ہے۔ہر سال جلسه سالانہ پر سینکڑوں کی تعداد میں بیرونی ممالک سے اسلام کے فدائی پہنچ رہے ہیں۔ان میں سے ہر آنے والا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل بن کر آتا ہے اور ہمارے ایمان میں زیادتی کا موجب بنتا ہے لیکن غلبہ اسلام کی مہم کو تیز تر کرنے کیلئے ہم نے سوچنا ہے کہ کیا ہماری جماعت کی ہر احمدی عورت صحیح کر دار ادا کر رہی ہے کیا اس کے وجود اور اس کے عمل و قربانی سے اسے تقویت مل رہی ہے اگر نہیں تو اس کیلئے ہمیں کیا کرنا ہے۔میری عزیز بہنو ! صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہمیں اسلام سے محبت ہے کافی نہیں جب تک