خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 213 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 213

خطابات مریم 213 خطابات ہمارے عزائم بڑے ہیں مقاصد ارفع و اعلیٰ ہیں لیکن کمزوریاں ابھی بہت ہیں اس کے لئے سب سے قبل ہم نے ہر لجنہ کو منظم کرنا ہے اس کا مرکزی لجنہ سے رابطہ قائم کرنا ہے کثرت سے لجنات سے نہ رپورٹ آتی ہے نہ چندہ۔جہاں لجنہ قائم نہیں جماعت قائم ہے وہاں لجنہ کا بھی قیام کرنا ہے اور ہر جگہ اس طرح تنظیم قائم کرنی ہے کہ آپس میں محبت، پیار، اخوت با ہمی اور ہمدردی کا جذبہ لے کر سب کام کریں۔لڑائی جھگڑے سے باز رہیں۔دیہات کی لجنات کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔اب تو دیہات میں بھی تعلیم عام ہے لیکن ایک عام نقص دیہات میں یہ ہے اگر ایک صدر بن جائے اور وہ کام کے قابل بھی نہ رہے تب بھی کسی اور کو صدر بنانے کے لئے ممبرات آمادہ نہیں ہوتیں۔اس سلسلہ میں کسی لحاظ کی ضرورت نہیں جو کام اور خدمت کرنے کی اہل ہوا سے عہدہ دیں نہ کہ کسی کو خوش کرنے کیلئے۔اس سلسلہ میں کئی سال سے میں توجہ دلا رہی ہوں کہ ضلعی لجنات اپنے ضلع کے انتظام کو مضبوط کر لیں۔دورے کریں ، کروائیں۔اس سال ضلع گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، سانگھڑ، پشاور اور قصور نے کئے ہیں۔اس کے علاوہ بشیر آباد کی صدر نے بھی ضلع گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور سرگودھا نے ضلعی سطح پر میٹنگز بھی بلائی ہیں۔پشاور نے صوبائی اجتماع منعقد کیا ہے۔ان چند کے سوا دیگر اضلاع کی صدروں نے مثلاً راولپنڈی، جہلم ، گجرات، لائل پور، ملتان ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان ، سا ہی وال ، جھنگ اور بہاولپور نے اس طرف بالکل توجہ نہیں دی۔کسی ایک صدر یا ایک عہدہ دار کے دن رات کام کرنے سے ترقی نہیں ہو سکتی جب تک تمام عہدیداران اور تمام ممبرات مل کر قدم بقدم نہ چلیں۔سب کے لئے کام کا معیار یکساں ہو۔قربانی کا جذبہ ایک ہو اور یوں محسوس ہو کہ سب کے جسموں میں ایک دل دھڑک رہا ہے۔تمام ضلعی بجنات کی صدروں کی ذمہ داری ہے اگر اس سال وہ دورے نہیں کریں گی اپنے ضلع کی نگرانی کا کام نہیں سنبھالیں گی تو ان کو کام سے ہٹانا پڑے گا۔لجنہ اماءاللہ مرکز یہ جو ہر سال لجنات کے لئے لائحہ عمل تجویز کرتی ہے کم از کم اس پر سو فیصد عمل کیا جائے۔لائحہ عمل کا یہ مطلب نہیں کہ صرف یہ کام کرنا ہے یہ تو کم سے کم معیار بتایا جاتا ہے اس سے بڑھ چڑھ کر کرنا چاہئے۔شعبہ تعلیم کی طرف سے کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام