خطابات مریم (جلد دوم) — Page 197
خطابات مریم 197 خطابات نیا عزم کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی اصلاح کی ضرورت ہے اپنے نفسوں کو ٹولنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، اپنی تربیت کی ضرورت ہے، اپنے اخلاق کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے کردار کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔یہ صیح ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے آپ کی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کی ہے لیکن ابھی ہم میں بہت سی کمزوریاں باقی ہیں جس کی طرف توجہ دینا ہر عورت کا کام ہے۔قاعدہ ہے کہ مامور کے زمانہ سے جوں جوں بعد ہوتا جائے کمزوریاں نئے آنے والوں کے ساتھ آ جاتی ہیں۔ان کمزوریوں کو دعا استغفار اور عمل کے ساتھ دور کر نا ہم سب کا فرض ہے۔انسان فرشتہ نہیں ہوتا پیار و محبت سے سمجھا کر اصلاح کرنی چاہئے۔اس سلسلہ میں مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ بسا اوقات میرے نام ایک گمنام خط آ جاتا ہے کہ آپ کے خاندان کے فلاں میں یہ نقص ہے یا فلاں لجنہ کی فلاں عہدہ دار ایسا کرتی ہے۔میں چاہوں بھی تو اس خط کا جواب نہیں دے سکتی کیونکہ اس پر لکھنے والی یا والے کا نام پتہ نہیں ہوتا یا نام تو لکھا لیکن واضح نہیں۔پتہ نہیں ایک نام کی کئی بہنیں ہو سکتی ہیں۔یہ طریق اختیار کرنا مومنانہ شان کے خلاف ہے۔کسی سے شکایت ہے تو صاف شکایت لکھیں۔اصلاح کی غرض سے لکھیں۔ثبوت کے ساتھ لکھیں اور اپنا نام پتہ لکھیں تا که تحقیق کی جا سکے ثبوت لیا جا سکے۔اس طرح کی شکایتوں کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔عام طور پر جو سب سے بڑی شکایت آتی ہے وہ یہ ہے کہ جماعت کے سرکردہ گھروں میں سے بہنیں پردہ صحیح نہیں کرتیں اور یہ میرا مشاہدہ بھی ہے کہ کچھ عرصہ سے پردہ کے سلسلہ میں بے احتیاطی شروع ہوگئی ہے برقع سے بڑی کھلی چادر شروع ہوئی۔بڑی چادر سے چھوٹی چادر اور چھوٹی چادر سے ایک رومال رہ گیا۔میری بہنو! پردہ اسلامی حکم ہے جو قرآن میں واضح طور پر درج ہے اور پردہ کی غرض عورت کی عزت و عصمت کی حفاظت ہے۔پر وہ ایسا ہو جس میں چہرہ اور جسم اور عورت کی زینت پوشیدہ رہے۔اگر چادر لے کر اپنا سارا چہرہ آپ کھول دیتی ہیں تو وہ پر دہ نہیں۔ایک اسلامی حکم سے مذاق ہے یہ یا درکھیں کہ بے شک بشارتیں اپنی جگہ ہیں لیکن ان کا مستحق اور حق دار بننا آپ کا فرض ہے۔ہم سے بڑھ کر قربانی نیک نمونہ ، قرآن اور دین پر عمل کرنے والی عورتیں کسی اور