خطابات مریم (جلد دوم) — Page 185
خطابات مریم 185 خطابات نے تعلیمی لحاظ سے قرآن کریم کے اس اعلان کے ذریعہ ان رسوم کو یک قلم ہٹا دیا ہے آپ اپنے گھروں سے اور اپنی زندگیوں سے ان رسوم کو اور بد عادات کو یکسر اور یک قلم ہٹا دیں اور دنیا اور دنیا داروں کی پرواہ نہ کریں اور اپنے رب کی رضا کی پرواہ کریں تمہاری زندگی میں کوئی اسراف نہیں ہونا چاہئے تمہاری زندگی میں کوئی رسم نہیں ہونی چاہئے۔خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے علاوہ ہماری عزت کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے اس مقام عزت کے بغیر کہ جس میں وہ ہمیں کھڑا کرنا چاہتا ہے ہمارے لئے اور کوئی مقام عزت نہیں۔دنیا نے جن مقامات کو عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے ان سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ کوئی سروکار ہے۔یہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرو تا خدا تعالیٰ کے فضلوں کی زیادہ سے زیادہ وارث ہوتی چلی جاؤ تا تمہارا انجام بخیر ہو۔تاہم جب اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے پاس پہنچیں ( جہاں ساری دنیا مل کر بھی ہمیں کوئی مدد یا فائدہ نہیں پہنچا سکتی ) تو وہ اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیں رکھے وہ ہم سے ناراض ہو کر ہمیں اپنے قہر اور اپنی لعنت کی جہنم میں نہ پھینک دے۔خدا کرے اس کی رضا ہمارے استقبال کو آئے اور جہنم کے فرشتے ہماری راہ نہ دیکھ رہے ہوں۔مگر یہ مقام آپ اس وقت حاصل کر سکتی ہیں جب آپ اس قسم کی بد رسوم اور بد عادتوں کو کلیہ اور پورے طور پر انتہائی نفرت کے ساتھ چھوڑ دیں۔(المصابیح صفحہ 32 تا34) پھر 23 جون 1967ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں اعلان فرمایا :۔میں ہر گھر کے دروازہ پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے