خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 186 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 186

خطابات مریم 186 خطابات مکھی پس قبل اس کے کہ خدا کا عذاب کسی قہری رنگ میں آپ پر وارد ہو یا اس کا قہر جماعتی نظام کی تعزیر کے رنگ میں آپ پر وارد ہو اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کا ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمریں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ مہنگا سودا نہیں سستا سودا ہے“۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحہ 762-763) کیا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے بعد بھی رسومات کے سلسلہ میں کچھ کہنے کو باقی رہ جاتا ہے۔تیسری بڑی ظلمت عادات کی ہے یعنی اچھے اخلاق کا اور اچھے کردار کا مالک نہ ہو۔اسلام نے اخلاق پر جتنا زور دیا ہے کسی مذہب نے نہیں دیا لیکن افسوس آتا ہے کہ اسلام کے علمبر دار ہی اعلیٰ اخلاق پر عمل کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھا کہ میں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا ہے اور پھر میں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں اس پر نا دان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا حالانکہ اس کشف سے مطلب یہ تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔(چشمہ مسیحی صفحہ 376 حاشیہ۔روحانی خزائن جلد 20) حقیقی انسان یعنی ایسے انسان جن کا ایک طرف اپنے رب سے پیار کا تعلق قائم ہو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں سے وہ بہت محبت کرنے والے ہوں۔آپ کے فیض اور تربیت سے پیدا ہونے مقدر تھے اور ہوئے اور یہی مقصد ہے نظام جماعت کا بھی۔وہ اعلیٰ اخلاق جو اسلام نے قائم فرمائے لیکن اپنی غفلت سے مسلمان بھول چکے تھے ان کو پھر سے رائج کرنا ہماری جماعت کا کام ہے۔ہماری ہر تنظیم کا فرض ہے اور عورتوں کا خصوصاً کہ وہ اپنی توجہ اور تربیت سے بچوں میں اسلامی اخلاق پیدا کریں اور ان کی تربیت قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق کریں تا ہر احمدی کے اخلاق اور کردار