خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 176 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 176

خطابات مریم 176 خطابات خطاب بر موقع جلسه سالانه احمدی خواتین (26 دسمبر 1977ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو انسانیت کے نجات دہندہ تھے ساری دنیا کیلئے رحمت تھے اور خاص طور پر عورت کے لئے جس کا کوئی مقام اسلام سے پہلے نہ تھا اس دنیا میں اس لئے بھیجا کہ آپ کے ذریعہ انسان اپنے رب کو پہچانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ پر خود عمل کر کے خدا تعالیٰ کا قرب اور پیار حاصل کر سکے جو آپ پر ایمان لائے انہوں نے بہت قلیل عرصہ میں دنیاوی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی ترقیات حاصل کیں اور ساری دنیا پر چھا گئے۔اسلام کی تاریخ اور جغرافیہ بتاتا ہے کہ صرف قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے سے کسقد ر جلد انہوں نے ترقی کی۔آج کی مغربی دنیا نے جو ترقی حاصل کی وہ سب اسلام کی مرہون منت ہے جو کچھ سیکھا مسلمانوں سے سیکھا۔ہر علم اور ہرفن کی ابتداء مسلمانوں سے ہوئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء کے بعد جوں جوں زمانہ گزرتا گیا مسلمانوں میں تقویٰ میں کمی آنی شروع ہوئی۔روحانیت میں کمی آئی ، قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا کم ہوا۔قرآن پڑھنے پڑھانے کا چرچا کم ہوا اور جہالت کا دور شروع ہوتا گیا یہاں تک کہ پھر ایک بار مسلمان جہالت اور گمراہی کا شکار ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جنہیں وہ بہت پیار کرتا ہے بھٹکتا نہیں چھوڑتا اس کا وعدہ تھا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ آپ کی اُمت کو تباہ نہیں ہونے دے گا اور ان کی اصلاح کے لئے ان کو پھر سے خدا تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے ایک وجود کو بھیجے گا۔چنانچہ اس نے اپنے وعدہ کے مطابق جب چودہویں صدی کا ظہور ہونے لگا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔چنانچہ آپ نے دعوی فرمایا :۔