خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 170 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 170

خطابات مریم 170 خطابات صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن دوسری تا ثیر قرآن جو موجب تزکیۂ نفس ہے“۔(شہادت القرآن صفحہ 42) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض قرآن جو مکمل اور آخری شریعت ہے کی تعلیم کو دنیا تک پہنچانا اور اس کا حامل بنا کر اہلِ دنیا کے نفوس کو پاک کر کے ان کا تعلق ان کے رب سے قائم کرنا تھا اور اس کے لئے ضروری تھا کہ خدا کے خلیفہ دنیا میں مبعوث ہوتے رہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے حفاظت قرآن کا کام ہونا تھا۔یہی مقصد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا تھا جیسا کہ الہاماً بھی آپ کو بتایا گیا تھا کہ یحی الدین ویقیم الشریعۃ کہ آپ کے ذریعہ دین اسلام کے باغ میں پھر سے بہار آئے گی اور آپ کے ذریعہ سے دنیا اسلام کے اصولوں پر چلے گی اور اس کے قوانین اور اصولوں کو اپنائے گی اور پھر وہ لوگ جو خدا سے دور ہو گئے تھے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں گے۔اسی غرض سے اللہ تعالیٰ نے نظام خلافت جاری فرمایا۔پس خلافت کی قدر کرنا خلیفہ وقت سے وابستہ رہنا آپ کے ہر حکم کی بشاشت قلب سے تعمیل کرنا۔آپ کی ہر تحریک پر لبیک کہنا۔تعلیم القرآن کے متعلق آپ نے جو ارشادات فرمائے ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے خود قرآن پڑھنا ترجمہ اور تفسیر سیکھنی۔اپنے گھروں میں قرآن کا چرچا کرنا اور اس کے نتیجہ میں اپنی عملی اصلاح آپ میں سے ہر عورت اور ہرلڑکی کا فرض ہے۔ایک اور بات کی طرف میں عہدیداران لجنات کو توجہ دلانا چاہتی ہوں۔اسلام کی تعلیم کا محور ہے اطِيعُوا اللهَ وَاطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أولى الآمْرِ مِنْكُمْ (النساء: 60) اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور نظام کی اطاعت اور ہر شہر میں جو امرام یا صدر جماعت مقرر ہوتے ہیں خواہ پاکستان میں ہوں یا بیرونی ممالک میں وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس جگہ نمائندے ہیں۔بحیثیت ایک احمدی ہونے کے آپ پر خواہ آپ لجنہ اماءاللہ کی عہدہ دار ہیں یا ایک ممبر اُن کی مکمل اطاعت واجب ہے۔ہر جگہ تو نہیں لیکن کہیں سے کبھی کبھی اس قسم کی شکایت آ جاتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یہ ہمارے نظام کی مرکزی روح اور جماعت احمدیہ کے وقار کے خلاف ہے۔اس سے وحدت جماعت کی روح کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ