خطابات مریم (جلد دوم) — Page 169
خطابات مریم 169 خطابات مطالب سمجھنے آپ پر بہت آسان ہو جائیں گے۔کیا اس زمانہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کی زبانی خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ آپ کو یاد نہیں کہ ”جو قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔دنیا میں بھی آپ کو عزت قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے سے مل سکتی ہے اور آسمان پر بھی۔قرآن ہی ایک ذریعہ امتیاز ہے ہم میں اور دوسروں میں قرآن ہی ہمارے لئے ذریعہ ہے روحانی ترقی کا۔قرآن ہی واحد ذریعہ ہے غلبہ اسلام کا اور اسی کو چھوڑ کر اُمت محمدیہ پر ادبار آیا تھا۔قرونِ اولیٰ میں بھی قرآن کی تعلیم پر عمل کر کے مسلمانوں نے ترقی کی اور جب قرآن کو بھلایا تو قعر مذلت میں جا گرے۔پھر مہدی علیہ السلام نے قرآن کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا کی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت قرآن کی تعلیم پر عمل کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے حاصل ہوسکتی ہے۔میری عزیز بہنو ! آپ کا فرض ہے کہ اپنی اولاد کی نگرانی کریں کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں یا نہیں۔صرف نگرانی نہیں اُن کو پڑھانے یا پڑھوانے کا انتظام کرنا آپ کا کام ہے۔سکولوں اور کالجوں میں بھیج کر مطمئن نہ ہو جائیں اس لحاظ سے ان پر سختی بھی کرنی پڑے تو کریں۔اکثر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ پڑھانے والیاں پڑھانا چاہتی ہیں لیکن پڑھنے والیوں میں شوق نہیں۔میں سب کو نہیں کہہ رہی اکثریت شوق رکھتی ہیں اور پڑھنا چاہتی ہیں۔ان کو پڑھانے کا انتظام کرنا لجنہ کی تنظیم کا کام ہے۔اس وقت اکثر لجنات کی نمائندگان یہاں موجود ہیں ان کا سب سے بڑا کام اپنی اپنی لجنہ اپنے اپنے شہر قصبہ اور گاؤں میں قرآن پڑھانے کا انتظام کرنا ہے۔چندے جمع کرنا تو ثانوی کام ہے اصل کام دین کی تعلیم دینا اور اسلامی رنگ میں اپنی اولاد کی تربیت کرنا ہے خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو شرمسار نہ ہوں بلکہ سرخرو ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہادت القرآن میں بیان فرماتے ہیں :۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعلّهم والحكمة (الجمعه : 3) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کیلئے آنحضرت