خطابات مریم (جلد دوم) — Page 134
خطابات مریم 134 خطابات سکتے ہیں ہم عمل نہیں کر سکتے۔قرآن ہی وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت علی کو ساری دنیا کے لئے اور ہمیشہ کے لئے عطا فرمایا ہے اس کا ایک ایک حکم اٹل ہے۔ہمیشہ کیلئے ہے ہر ایک کے لئے ہے۔انسانی فطرت کے مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اور ہر انسان کی فطرت کو جانتا ہے کوئی حکم اس میں ایسا نہیں رکھا جسے انسانی فطرت قبول نہ کرتی ہو۔پس جب قرآن مجید کی ساری کی ساری تعلیم انسانیت کی بہبودی اور ترقی کیلئے ہے اور جس پر عمل کرنا مشکل بھی نہیں کسی ایک حکم کی خلاف ورزی کرنے سے بھی ہم اپنا نقصان خود کرتے اور اسلام کی ترقی میں روک بنتے ہیں۔ہم نے باقی دنیا کی قوموں کی ریس نہیں کرنی وہ مادہ پرستی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ہمارا نصب العین اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے اور یہ تعلق بغیر قربانی کے نہیں حاصل ہوسکتا۔اس کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے دین سیکھنا اور اس کے مطابق مجاہدہ کرنا ہے۔ہر بیماری کے لئے ڈاکٹر کوئی نسخہ تجویز کرتا ہے روحانی بیماریوں کا علاج قرآن مجید ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاس - (النحل : 70 ) جو دلوں کو صاف کرتا اور انسانوں کو با اخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بنا دیتا ہے۔پس اپنے دلوں میں بھی اور اپنے بچوں کے دلوں میں بھی قرآن کی عظمت پیدا کر و۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔جاننا چاہئے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی۔(روحانی خزائن جلد 3 - ازالہ اوہام صفحہ 452) اور جب عظمت ہی باقی نہیں رہی تو عمل کیسے ممکن ہوگا۔پس پہلے تو ضروری ہے کہ ہر احمدی عورت قرآن مجید کے ترجمہ، مطلب، اسلام کی تاریخ ، احمدیت کی تاریخ ، احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بخوبی واقفیت رکھتی ہو۔ہر احمدی گھرانہ کو اپنی ذمہ داری کا اچھی طرح احساس پیدا ہونا چاہئے۔ہر ماں کو اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور تربیت کی فکر ہونی چاہئے اور ہر لجنہ کی عہدہ دار کو اور ناصرات کی عہدہ دار کو اپنی مبرات کی تربیت کا خیال ہونا چاہئے۔آئیے ہم عزم کریں اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہوئے کہ ہم اگلی نسل کو