خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 133 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 133

خطابات مریم 133 خطابات باپ اور خسر کے سامنے صرف چہرہ ہی ظاہر کرتی ہو یا بغیر دستانوں کے ان کے سامنے آتی ہو تو عقل بھی کہتی ہے کہ غیر محرم کے سامنے چہرہ ڈھانپنا پڑے گا۔یہ ایک بڑی واضح بات ہے بڑی کھلی بات ہے۔اس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔یہ کوئی اُلجھا ہوا مسئلہ نہیں ہے۔یہ قرآن کا حکم ہے تمہیں اس کی پابندی کرنی چاہئے۔۔۔اگر تم نے اپنی عصمت اور عزت کی ویسی حفاظت کرنی ہے جو خدا کی نگاہ میں اور اس کے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اور اُس کے بندوں کی نگاہ میں ہے تو پھر تمہیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا پڑے گا۔اگر تم نے کتے کتیوں کی طرح زندگی گزارنی ہے تو پھر تمہاری مرضی لیکن اگر تم نے اس دنیا میں انسان بن کر رہنا ہے اور یقیناً انسان بن کر رہنا ہے تو پھر تمہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے ساتھ چمٹ کر زندگی گزارنی پڑے گی۔تقریر حضرت خلیفة المسح الثالث برموقع سالانہ اجتماع 1972 ءالمصابیح صفحہ 253-254) پس بہت ضرورت ہے تربیت کی ہر جگہ یہاں پاکستان میں بھی ، ہندوستان میں بھی، انگلستان میں بھی ، یورپ میں بھی ، افریقہ اور امریکہ میں بھی اور جزائر میں رہنے والی خواتین کے لئے بھی۔تربیت اور اصلاح کے تین بڑے اصول ہیں۔علم ، عمل اور حفظ ما تقدم۔اپنی اصلاح ہو یا معاشرہ کی یا اولاد کی سب سے پہلے علم کی ضرورت ہے۔علم سے مراد مذہبی اور دینی علم ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی خواتین جاہل نہیں۔اکثریت تعلیم یافتہ ہے لیکن ہم یہ دعوئی سے نہیں کہہ سکتے کہ اکثریت قرآن کریم کا ترجمہ جانتی ہے۔ہر جگہ ہر لجنہ میں خواہ وہ گاؤں کی ہو یا قصبہ کی یا شہر کی آئندہ سالوں میں ایسا پروگرام ترتیب دینا ہے جس کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کا علم بہنوں اور بچیوں کو آئے۔ہر عورت اور ہر بچی کونماز کا ترجمہ اور قرآن مجید کا ترجمہ آنا چاہئے۔جب تک آپ کو اس کا علم ہی نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ کن باتوں کو پسند فرماتا ہے۔کن باتوں کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے کن باتوں سے منع فرمایا ہے ، کن باتوں کو اختیار کرنے سے ہم محبت الہی کو حاصل کر سکتے ہیں اور کون سی باتوں میں پڑنے سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ) عذاب الہی کے مورد بھی بن