خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 130 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 130

خطابات مریم 130 خطابات اسلامی تہذیب و تمدن کو قبول نہ کریں بلکہ اس کے برعکس مسلمان یورپی تہذیب جو اصل میں عیسائی تہذیب کا دوسرا نام ہے سے متاثر ہو جائیں۔آپ کو ڈر تھا کہ اسلام ایک بدلی ہوئی صورت میں یورپ میں قائم نہ ہو جائے اور جس طرح یورپ نے مسیحیت کو تباہ کیا تھا وہ اسلام کو بھی دوستی کے جامہ میں تباہ نہ کر دے۔آپ نے دورانِ سفر جو خطوط احباب جماعت کو لکھے ان میں اسی درد کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہم سوائے خدا تعالیٰ کی مدد کے اس مشکل کو حل نہیں کر سکتے۔مسلمان بنانا آسان ہے مگر اسلام کو ان سے بچانا مشکل ہے اور اس وقت میرے سفر کی یہی غرض ہے۔آپ نے لکھا:۔یورپ کے واقف کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے یورپ ضرور اسلام لائے گا مگر وہ ساتھ ہی اسلام کو بگاڑ دے گا اور اس کی شکل کو بالکل مسخ کر دے گا۔بالکل ممکن ہے کہ یورپ میں چاروں طرف سے اللہ اکبر کی آوازیں آنے لگیں اور سب جگہ گرجوں کی جگہ مسجدیں بن جائیں لیکن یہ فرق ظاہر ہوگا لوگ تثلیث کی جگہ تو حید کا دعوی کریں گے۔مسیح کی جگہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ کریں گے۔مسیح موعود پر ایمان لائیں گے۔گرجوں کی جگہ مسجد میں بنائیں گے مگر ان میں وہی ناچ گھر ، وہی عورت اور مرد کا تعلق ، وہی شراب، وہی سامان عیش نظر آئیں گے۔۔۔میری عقل یہی کہتی ہے کہ حالات ایسے ہی ہیں مگر میرا ایمان کہتا ہے کہ تیرا فرض ہے کہ تو اس مصیبت کو جواگر اسلام پر نازل ہوئی تو اس کو کچل دے۔اسے دور کرنے کی کوشش کر غور کر اور فکر کر اور دعا کر۔66 پھر آپ نے جماعت کو تنبیہ فرماتے ہوئے لکھا:۔اگر میں زندہ رہا تو میں انشاء اللہ اس علم سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کروں گا۔اگر میں اس جدو جہد میں مر گیا تو اے قوم ! میں ایک نذیر عریاں کی طرح تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اس مصیبت کو کبھی نہ بھولنا۔اسلام کی شکل کو کبھی نہ بدلنے دینا۔جس خدا نے مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے وہ ضرور کوئی راستہ نجات کا نکال دے گا۔پس کوشش نہ چھوڑنا ، نہ چھوڑنا ، نہ چھوڑنا ، آہ نہ چھوڑنا۔میں کس طرح تم کو یقین دلاؤں کہ اسلام کا