خطابات مریم (جلد دوم) — Page 131
خطابات مریم 131 خطابات ہر ایک حکم نا قابل تبدیل ہے۔خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا۔جو چیز سنت سے ثابت ہو وہ ہرگز نہیں بدلی جا سکتی جو اس کو بدلتا ہے وہ اسلام کا دشمن ہے وہ اسلام کی تباہی کی پہلی بنیاد رکھتا ہے۔کاش وہ پیدا نہ ہوتا“۔(الفضل 16 اگست 1924ء) اب آئیے ! حضرت مصلح موعود کی اس تنبیہہ اور انذار کی روشنی میں اپنا جائزہ لیں۔1924 ء سے اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے انگلستان ، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بہت بڑی جماعتیں پیدا ہو چکی ہیں۔جہاں بڑے مخلص ، بڑی قربانی دینے والے، مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی جن کی پوری کوشش اور خواہش ہے کہ وہ صف اول کی قربانیاں دینے والوں میں ہوں۔انہی ممالک میں ایسے خواتین بھی ہیں جو پاکستان سے جا کر وہاں رہائش اختیار کر چکی ہیں۔اگر ان کا نمونہ ان ممالک کی خواتین کے سامنے وہ نہیں ہو گا جو اسلامی تعلیم کی عکاسی کر سکے تو یقیناً بہت سوں کیلئے ٹھوکر کا باعث ہوگا۔پس میری احمدی بہنو! آپ دنیا کے کسی خطہ میں بھی بس رہی ہیں اور آپ نے حضرت مسیح موعود کو سچا سمجھ کر مانا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ صرف نام کی احمدی نہ کہلائیں بلکہ آپ کو مذہب سے شدید لگاؤ ہو۔اسلام کے نام پر جان ، مال ، عزت اولا دسب کچھ قربان کرنے والی ہوں۔اپنا نمونہ قرآنی تعلیم اور اُسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق پیش کرنے والی ہوں۔اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرنے والی ہوں۔خود عبادت گزار دعائیں کرنے والی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والی ہوں تا کہ آپ کی گودوں سے پروان چڑھنے والی اولا د بھی آپ کے نقش قدم پر چلے۔اگر دوسروں کو آپ میں احمدیت قبول کرنے کے بعد نیک تبدیلی نظر نہیں آتی تو کیا یہ چیز ان کے لئے کشش کا باعث ہوگی۔بہت سی بہنیں یہاں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی جا کر پردے سے لا پرواہ ہو جاتی ہیں اور لباس کے معاملہ میں وہ طریق اختیار کرتی ہیں جو غیر اسلامی ہوتا ہے گویا وہ اپنے عمل سے دنیا کو بتا رہی ہوتی ہیں کہ اسلام کے اس حکم پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ان کی بچیاں جو ان کی تربیت میں پرورش پائیں گی وہ بھی ابتداء سے ہی اس جذبہ کے ساتھ بڑی ہوں گی کہ پردہ اسلام کے حکموں میں نہیں اور غیر اسلامی لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ایسی خواتین آہستہ آہستہ اسلام کی شکل تبدیل کر رہی