خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 128 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 128

خطابات مریم 128 خطابات رکھنے میں سستی ہو، چندے دینے میں سستی ہو۔دعوئی ہمارا یہ ہو کہ ساری دنیا کو قرآن سکھانا ہے خود قرآن کے ایک لفظ کا ترجمہ نہ آتا ہو۔دعویٰ ہمارا یہ ہو کہ ساری دنیا اسلام قبول کر کے اسلام کی تعلیم پر عمل کرے خود پتہ ہی نہیں کہ قرآن کس بات کے کرنے کو کہتا ہے اور کس بات سے منع کرتا ہے۔پس میری بہنو! بشارتیں بہت بڑی ہیں وہ وقت نزدیک سے نزدیک آ رہا ہے۔جب غلبہ اسلام کی صبح کی روشنی آپ کے سامنے نظر آ جائے گی۔اس تعمیری دور کے لئے آپ نے ابھی سے قربانیاں دینی ہیں۔قربانیاں اپنے وقت کی ، اپنی عادات کی، اپنی اولاد کی ، اپنے مال کی اور اپنی بچیوں کو تیار کرنا ہے اس جشن کی روح رواں بننے کیلئے اور آئندہ پڑنے والی ذمہ داریوں کا بار اُٹھانے کیلئے۔میں آج جو مائیں ہیں اُن سے التجاء کرتی ہوں کہ وہ اپنی بچیوں کو دین سکھائیں۔قرآن پڑھائیں ، قرآن کا ترجمہ پڑھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھائیں، مذہب سے محبت پیدا کریں، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ان کے دلوں میں پیدا کریں، محمد رسول اللہ علی سے عشق پیدا کریں، مہدی موعود علیہ السلام کی محبت دلوں میں پیدا کریں، دین کیلئے غیرت کا جذ بہ پیدا کریں، اسلام کی محبت دلوں میں پیدا کریں۔دین کیلئے ان میں ارادہ اور عزم کی پختگی ہو جسے بڑے سے بڑا فتنہ متزلزل نہ کر سکے۔خلیفہ وقت کی اطاعت کا جذ بہ پیدا کریں، صاف دل بنائیں ایسا صاف دل کہ کسی قسم کی منافقت اس میں پنپ نہ سکے۔ان کے گھروں میں کپڑے، زیور، سنگھار کی چیزوں اور فرنیچر کی باتوں کی بجائے قرآن اور احادیث کا چرچا ہو۔ایک دوسرے سے بڑھ کر دین کی خدمت کرنے کا ذکر ہو۔گزشتہ دو سال سالانہ اجتماع نہ ہو سکنے کے باعث مجھے نظر آ رہا ہے کہ احمدی خواتین اور بچیوں کی تربیت میں کچھ خامیاں پیدا ہوگئی ہیں۔انسان کی فطرت ہے کہ اسے نصیحت کی جاتی رہے تو اس کا اثر قبول کرتا ہے۔اس لئے قرآن مجید میں بار بار ذکر کے الفاظ آتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے۔فَذَكِّرت إنما انتَ مُذَكِّرُ (الغاشية: 22) نصیحت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔داروغہ آپ نہیں اس کے برعکس جب ہم بُرائی دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو واقعی