خطابات مریم (جلد دوم) — Page 117
خطابات مریم 117 خطابات اسی جماعت کے ساتھ ہے بکھرتا ہوا شیرازہ پھر متحد ہو گیا اور جماعت اپنے خلیفہ کی قیادت میں پھر ترقی کرنے لگی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر جماعت کو پھر دھکا لگا اور قریب تھا کہ جماعت کا شیرازہ پھر بکھر جائے لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کی نصرت جسے حاصل ہو وہ تباہ نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا خلیفہ دیا جس نے اپنے قول اور فعل۔جماعت میں ایک ایسی روح پھونکی کہ جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔خلافت ثانیہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے انہی برکات کو خلافت ثالثہ کے ذریعے سے جاری رکھا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا۔آپ میں سے اکثر نے حضرت خلیفہ اول کا زمانہ بھی نہیں پایا بلکہ آپ میں سے کئی نے حضرت خلیفہ ثانی کا ابتدائی زمانہ بھی نہیں دیکھا جب جماعت ترقی کرتی ہے تو ہر قسم کے لوگ جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ بہت سی روحانی کمزوریاں بھی لاتے ہیں جو کہ ہم جیسوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اسی کی طرف قرآن مجید کی یہ آیات بھی اشارہ کرتی ہیں۔إذَا جَاء نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَانتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ افَوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إنّهُ كَانَ تَوَّابًا (النصر : 2 تا 4) لیکن ہمارا ایمان زندہ خدا پر ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سچے بندے بنیں اور دنیا کے لئے کامل نمونہ بنیں تا یکبارگی دنیا کو نظر آ جائے کہ عبدیت کا نظارہ اس جماعت سے بڑھ کر اور کہیں نظر نہیں آ سکتا۔خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو کر خدا تعالیٰ کی خاطر خدا تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کریں اُن کی بہبودی و اصلاح کی فکر کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی کا خلاصہ اِنَّ صَلوتِی وَنُسُكِی وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنُ (الانعام : 163) کے اندر آ جاتا ہے۔یہی وہ مقصد اور نصب العین ہم سب کا ہونا چاہئے۔ہماری زندگی ، ہماری عبادت، ہمارا جینا مرنا، ہماری قربانیاں اور ہمارے سب کام خدا تعالیٰ کی خاطر ہوں۔ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی پوری طرح ادا کریں اور خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کو اس طرح پڑھیں کہ اس کے مطالب اچھی طرح ہماری سمجھ میں آ جائیں۔احادیث پڑھیں تا