خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 116 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 116

خطابات مریم 116 خطابات جماعت کی تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ میں نہیں چاہتا کہ چند الفا ظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جاویں اس سے کچھ فائدہ نہیں تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 352) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو جو نصائح فرمائی ہیں اُن میں بار باراسی بات پر زور دیا ہے کہ میری بعثت کی غرض ہی یہی ہے کہ میں تم میں خدا تعالیٰ کا ایسا کامل ایمان پیدا کروں جس کے نتیجے میں ایک پاک تبدیلی تم میں پیدا ہوا اور تم بدیوں سے محفوظ رہو اور ایک نئی زندگی تمہیں حاصل ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں :۔اس لئے میں خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لائے وہ گناہ کے زہر سے بچ جاوئے اور اس کی فطرت اور سرشت میں ایک تبدیلی ہو جاوئے اس پر موت وارد ہو کر ایک نئی زندگی اُس کو ملے۔گناہ سے لذت پانے کی بجائے اُس کے دل میں نفرت پیدا ہو۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 493) دیکھنا یہ ہے کہ واقعی ہم نے اس جماعت میں داخل ہو کر اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے پاک تبدیلی پیدا کی ہے یا نہیں کی اور نہیں کی تو کس طرح ہم وہ تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کا نتیجہ ہونی چاہئے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جو لوگ آپ پر ایمان لائے اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا آپ کی باتیں سنیں۔تازہ بتازہ نشانات دیکھے اور اُن کا ایمان ترقی کرتا گیا اور اُن کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی گئیں۔وہ وقت گزر گیا نبی تو صرف تخم ریزی کرنے آتا ہے۔آپ اپنا کام کر کے خالق کے پاس چلے گئے۔دنیا نے سمجھا اب یہ جماعت ختم ہو جائے گی۔ابتلا آئے ٹھو کر میں لگیں لیکن قدرت ثانیہ کے ذریعہ لوگوں نے مشاہدہ کر لیا کہ خدا کی مدد