خطابات مریم (جلد دوم) — Page 115
خطابات مریم 115 خطابات فتوحات حاصل کیں۔اُنہوں نے وہ گر سیکھ لئے اُن کو یا درکھا اور انہیں اپنا کر آج ترقی کر گئے اور ہم پیچھے رہ گئے اب اس فرق کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ کہوں گی کہ مغربیت کی پیروی نہیں کرنی چاہئے تو وہ اس تہذیب کے اثرات سے منع کرنے کی میری خواہش ہوگی جو دراصل عیسائیت کی تعلیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے اور اُن کی تہذیب کا عکس اُن چیزوں میں نظر آتا ہے اور اس سے بھی کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمانے میں جو یہ آزادی کی رو چلی ہے اس میں بڑی حد تک ہماری نسل مغربیت کی پیروی کرنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتی ہے اور یورپ اور امریکہ کی تہذیب سے کافی متاثر نظر آتی ہے بظاہر چمکتی ہوئی اور بہت روشن تہذیب لیکن اندر سے کھو کھلی تہذیب جس سے اس وقت خود یورپ اور امریکہ کے لوگ بھی بیزار نظر آتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان اُلجھنوں کا کوئی حل تلاش کریں لیکن جن اُلجھنوں سے نکل کر وہ کوئی حل ڈھونڈ رہے ہیں اُن اُلجھنوں میں ہماری قوم کے لوگ پڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔اخلاقیات کا جو سبق قرآن سکھاتا ہے ایسا مکمل اور جامع سبق نہ کوئی اور مذہب پیش کرتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کسی قوم نے آج تک پیش کیا ہے لیکن یہ بھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس زمانے کے مسلمان اُن پر عمل نہیں کر رہے اگر ہم قرآن کی تعلیم پر عمل کریں تو مسلمان کی یہ حقیقت ہے کہ وہ دنیا کی کسی قوم سے شکست نہیں کھاتے یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہم نے زندہ خدا کا چہرہ دیکھا۔ہم نے آنکھوں سے صد ہا نشانات کو پورے ہوتے دیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ذریعے سے خدا تعالیٰ کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھا۔اس لئے احمدی جماعت کے مردوں اور ا عورتوں کو جس قد ر خدائے واحد پر ایمان ہو سکتا ہے اور ہے وہ اور کسی میں نہیں لیکن ہم میں سے بعض میں کمزوریاں ابھی باقی ہیں جن کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔ہمارے مردوں کا بھی ہماری عورتوں کا بھی۔ہمارے لڑکوں کا بھی اور ہماری لڑکیوں کا بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی جماعت کی اصلاح کی فکر اور تڑپ تھی وہ آپ کے ان الفاظ سے کسی قدر ظا ہر ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔” مجھے بہت سوز وگداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی ہو جو نقشہ اپنی