خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 114 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 114

خطابات مریم 114 خطابات کیلئے اور مشرق کے رہنے والوں کے لئے بھی اور مغرب کے رہنے والوں کے لئے بھی۔اس لئے کسی چیز کو بُرا سمجھنا کہ یہ مغربی یا مشرقی شمالی یا جنوبی ہے یہ ذہنیت نہیں ہونی چاہئے۔ہم مغربیت کو جب بُرا کہتے ہیں اور مغربی تہذیب سے بچنے کیلئے اپنے بچوں کو کوئی نصیحت کرتے ہیں تو اُس کا مطلب ہوتا ہے عیسائی تہذیب کیونکہ اس وقت مغرب پر جس تہذیب کا اثر پڑ رہا ہے وہ عیسائیت کا ہے۔عیسائیت کے تمدن کا ہے ورنہ انشاء اللہ تعالیٰ جب اسلام دنیا میں پھیلے گا تو مشرق میں بھی اسلام ہوگا اور مغرب میں بھی۔جنوب میں بھی اسلام ہوگا اور شمال میں بھی اسلام کا بول بالا ہوگا اور یہی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا مقصد تھا جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مغربیت کے اثرات سے بچو۔مغربی تہذیب کی پیروی نہ کروتو اُس کا مطلب ہوتا ہے کہ عیسائی مذہب نے جو غلط باتیں اپنے مذہب کے لوگوں میں پھیلا دی ہیں وہ دانستہ یا نا دانستہ تم اختیار نہ کرو۔جب ہم کسی مذہب اور قوم کی تہذیب و تمدن کو اپناتے ہیں تو آہستہ آہستہ اُس مذہب کی محبت بھی ہمارے دلوں میں رچینی شروع ہو جاتی ہے ورنہ اچھی چیز جو نظر آئے۔نبی کریم علی نے ارشادفرمایا۔وہ لو۔بُری چیز یا بُری بات ہمیں خواہ اپنے معاشرے میں بھی نظر آئے اُس کو ہم چھوڑ دیں گے۔یہ بھی آپ نے فرمایا کہ ہر اچھی چیز دراصل مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان مغربی اقوام نے جو اچھائیاں اپنائی ہیں اور جو خوبیاں سیکھی ہیں اگر وہ حقیقت میں خوبیاں ہیں تو وہ اسلام کی ہی تعلیم سے لی گئی ہیں جن کو بد قسمتی سے مسلمان چھوڑ بیٹھے ہیں اور اُن اقوام نے اُنہیں اپنا کر اپنے سے منسوب کر لیا ہے مثلاً سچائی کی بات ہے اسلام نے جتنی شدت سے سچائی پر زور دیا ہے آپ کسی بھی مذہب کی کتاب اُٹھا کر دیکھ لیجئے کہیں بھی اتنی سچائی پر زور نہیں دیا گیا۔اسلام نے جتنا صفائی پر زور دیا ہے اتنا کسی مذہب نے نہیں دیا لیکن افسوس اور دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں میں اب کوئی صفائی کا معیار نظر نہیں آئے گا جو مغربی اقوام میں نظر آتا ہے۔اب یہ کہنا کہ مغربی اقوام کی ان باتوں کی پیروی نہ کرو تو یہ ظلم ہوگا کیونکہ صفائی دراصل ہماری تعلیم تھی قرآن کی تعلیم تھی۔نبی کریم علی کی تعلیم تھی۔انہوں نے یہ تعلیم یاد رکھ لی۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے جن خوبیوں کی بنا پر