خطابات مریم (جلد دوم) — Page 105
خطابات مریم کون کا ذب ہے۔105 خطابات (روحانی خزائن جلد 20 ، رسالہ الوصیت صفحہ 309) ہم نے بھی اپنے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے ایک عہد باندھا تھا۔ہر عورت کو اس عہد بیعت کو تازہ کرتے رہنا چاہئے اور اپنے نفس کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کیا میں اپنے دعویٰ بیعت میں صادق ہوں یا نہیں۔بیعت کرتے ہوئے تو ہم نے کہا تھا کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائیں شرک سے مجتنب رہیں گے کیا کوئی ایسا کام تو ہم نہیں کر رہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا سے بڑھ کر کسی اور کی رضا مطلوب ہو اور اس طرح شرک خفی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔عہد تو یہ کیا تھا کہ نفسانی جوشوں کے وقت ان کی عقلیں مغلوب نہیں ہوں گی۔جائزہ لینا چاہئے کہ کیا اپنی ذاتی اغراض کے لئے کسی فساد کے مرتکب تو نہیں ہو رہے کسی پر ظلم تو نہیں کر رہے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہم سے ہو رہی۔خلق اللہ کوتو ہم سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔نہ ہماری زبان سے نہ ہاتھ سے کسی پر الزام تراشی تو نہیں کرتے۔غیبت تو نہیں کرتے کسی کو دکھ تو نہیں پہنچاتے۔پھر عہد تو یہ کیا تھا کہ ہر حال میں رنج اور راحت ،عسر اور میسر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کریں گی اور ہر ایک ذلت اور دُکھ کو قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہیں گی۔اس سلسلہ میں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نئے انتخابات کے سلسلہ میں بعض جگہ عہدہ داروں نے اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔بعض بہنیں سمجھتی ہیں کہ خواہ قومی جواب دے گئے ہوں ، کام کی ہمت نہ ہو یا مجبوریوں کے باعث کر نہ سکتی ہوں لیکن عہدہ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔عہدہ تو ایک ذمہ داری ہوتی ہے جو جماعت کی طرف سے لجنہ کی کسی عورت کے سپرد کی جاتی ہے۔اگر وہ اس سے لے کر کسی اور کے سپرد کر دی جائے تب بھی اگر اسے اپنے دین سے پیار ہے اپنی قوم سے محبت ہے اور کام کرنا ہے تو اس کو جو بھی اس پر عہدہ دار اور افسر مقرر کئے جائیں ان کی کامل اطاعت کرنی چاہئے۔یہ نہیں کہ جب تک عہدہ اپنے ہاتھ میں رہا کام کیا جب دوسری کسی خاتون کو عہدہ دار بنا دیا تو دلچسپی لینی چھوڑ دی۔یہ ایک بڑا ہی غلط جذ بہ ہے جس کا مظاہرہ اس سال بعض مقامات پر مشاہدہ میں آیا ہے۔ہمارا کام صرف اطاعت ہے اور جو بھی عہدہ دار مرکز کی طرف سے مقرر ہوں ان کی مکمل اطاعت کی جائے اور ان سے پورا