خطابات مریم (جلد دوم) — Page 106
خطابات مریم 106 خطابات تعاون ہو کیونکہ وہ مرکزی نمائندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔پھر ہم نے یہ بھی عہد بیعت باندھا تھا کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز رہیں گی اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کریں گی اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستورالعمل قرار دیں گی۔میری بہنو! اپنی زندگی، اپنی تقریبات، اپنی خوشیوں ، اپنے غموں میں یہ سوچ لیا کریں کہ ہم نے احمدی جماعت میں داخل ہوتے ہوئے یہ عہد کیا تھا کہ رسم کی پیروی نہیں کریں گی اور ہم پر حکومت قرآن کی ہوگی۔ہم پر حکومت اللہ اور اس کے رسول کی ہوگی۔کیا جو کمزوریاں ہماری جماعت کے ایک حصہ میں پیدا ہو چکی ہیں خواہ وہ ہزار میں سے ایک خاتون میں ہی ہوں وہ ہمارے اس عہد بیعت کو کمزور نہیں کر رہی ہیں جو ہم نے اپنے خدا سے کیا تھا۔پھر یہ بھی عہد کیا تھا کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی اولا د اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔یہ ہے وہ مقام در اصل جو ہمیں حاصل ہونا چاہئے کہ اپنی ضروریات پر دین کی ضروریات مقدم، اپنی عزت پر دین کی عزت مقدم، اپنی جان مال اور اولا د پر خدا اور اس کے خلیفہ کا حکم مقدم رکھیں۔ان دو دنوں میں پردہ اور رسومات کے متعلق بہت کچھ کہا جا چکا ہے لیکن ربّ کریم کے ارشاد کے مطابق کہ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (آل عمران : 111) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق کہ کسی کو بُرائی کرتے دیکھو۔اول تو ہاتھ سے روکو۔ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے، زبان سے بھی روکنے کی جرات نہ کر سکو تو کم از کم دل میں تو بُرا منالیا کرو میں ان باتوں کو بار بار دہرانے سے رک نہیں سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض جیسا کہ آپ کو الہام میں بتایا گیا ہے۔يحى الدين ويقيم الشريعة ( تذکرہ صفحہ (55) ہے۔آپ دین پھر سے زندہ کریں گے اور شریعت کو پھر سے قائم کریں گے۔آپ کوئی نیا دین نہیں لائے۔ہمارا مذہب اسلام ہے، ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ہماری کتاب قرآن ہے، آپ کی بعثت کی غرض دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لانا اور قرآن پر چلانا ہے اور یہ کام قرآن پڑھے بغیر نہیں ہوسکتا اور وہ نیا آسمان اور نئی زمین جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ پیدا ہونی ہے وہ بھی اس