خطابات مریم (جلد دوم) — Page 102
خطابات مریم 102 خطابات اختتامی خطاب بر موقعه سالانہ اجتماع منعقد ہ 4 /نومبر 1973ء) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (التحريم:7) اے مومنو! اپنے اہل کو بھی اور اپنی جانوں کو بھی دوزخ سے بچاؤ۔جس کا ایندھن خاص لوگ یعنی کا فر ہوں گے اور اسی طرح پتھر ہوں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یايُّهَا النَّاسُ یعنی اے لوگو بلکہ ان لوگوں کو مخاطب فرمایا ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور اسلام کو قبول کر چکے ہیں۔یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمہارا صرف مان لینا تمہیں نجات دلا دے گا بلکہ جب تک تمہارے اعمال تمہارے ایمان کے مطابق نہ ہوں گے ڈر ہے کہ کسی قدم پر لغزش کھا کر تم جہنم میں نہ جاپڑ و خود بھی بچو اور اپنے اہل وعیال کو بھی محفوظ رکھو کیونکہ انسان کے لئے بعض وقت اس کے بیوی بچے بڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔ان کو اسی معیار پر لاؤ جس پر تم خود کھڑے ہو کبھی خاوند کی وجہ سے عورت کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں کبھی عورت کی وجہ سے خاوند فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔کبھی اولا دماں باپ کو آزمائش میں مبتلا کر دیتی ہے۔اس لئے سارے گھر کی نجات کیلئے ضروری ہے کہ ہر خاوند اور ہر باپ اپنی بیوی اور بچوں کی صحیح نگرانی کرے کہ احکام شریعت اور دینی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں وہ اس کا ساتھ دے رہے ہیں یا نہیں۔کل حضرت خلیفتہ امیج الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ شاہراہ غلبہ اسلام پر آپ کو بھی اپنے مردوں کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنا پڑے گا اور