خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 87 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 87

خطابات مریم 87 خطابات خطاب سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ 1973ء دعا،عہد ، تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری عزیز بچیو! تم سب کو اپنے اجتماع میں شرکت کے لئے مرکز سلسلہ میں آنا مبارک ہو۔میری دعا ہے کہ یہاں کے تین روزہ قیام میں تم اپنے اندر ایک عظیم تبدیلی محسوس کرو اور واپس جا کر جو کچھ یہاں سیکھو اور حاصل کرو وہ اپنی ہمجولیوں اور ملنے جلنے والیوں کو بتا اور سکھاسکو۔جس طرح تمہاری بزرگ خواتین لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں بطور نمائندہ بن کر آتی ہیں اسی طرح باہر سے آنے والی تمام بچیاں اپنے شہر کی طرف سے بطور نمائندہ ہیں اس لئے سب سے پہلی نصیحت اپنی بچیوں کو میری یہ ہے کہ وہ اپنے اوقات ضائع نہ کریں۔کھیلنے کے لئے سارا سال ہے ان تین دنوں سے اپنی عمر اور اپنی ذہانت کے مطابق فائدہ اُٹھاؤ۔پروگراموں کو توجہ سے سننے کی کوشش کرو اگر سنجیدگی اور توجہ سے پروگراموں کو سنو گی تو بہت کچھ حاصل کر سکو گی۔اجتماع ہو یا کھیل کا میدان ، سنجیدگی ، وقار اور اخلاق کا ہر قدم پر مظاہرہ کرو۔کوئی غیر سنجیدہ حرکت ، کوئی وقار سے گرا ہوا فعل ناصرات الاحمدیہ کی شان کے شایاں نہیں۔یہ یا درکھو کہ آج بیشک تم بچیاں ہو لیکن آئندہ قوم کا مستقبل تم سے وابستہ ہے۔یہ سیکھنے کی عمر ہے اللہ تعالیٰ کا تم پر یہ عظیم الشان انعام ہے کہ تمہیں احمدی گھرانوں میں پیدا کیا۔اسلام جیسی نعمت تمہیں عطا فرمائی مسیحائے زماں کی جماعت سے تمہیں وابستہ کیا۔بیشک تم احمدی بچیاں ہو، ناصرات ہو لیکن حقیقت میں ناصرات الاحمدیہ کی مستحق تب کہلا سکتی ہو جب اپنے عمل اپنے کردار اپنے اخلاق اپنی زندگی اور اپنی قربانیوں سے اس بات کا ثبوت دوگی کہ تم واقعی ناصرات الاحمدیہ ہو۔تم نے اسلامی تاریخ کے واقعات سنے ہوں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا۔جنگ بدر میں اس کو دو بچوں نے قتل کیا جو بارہ بارہ سال کے تھے کس جذبہ نے ان کو ابوجہل کے قتل پر اُکسایا۔صرف اسلام کی محبت نے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق