خطابات مریم (جلد دوم) — Page 82
خطابات مریم 82 تحریرات اے احمدی جماعت کی پُر ہمت خاتو نو! اور اے دین کو دنیا پر مقدم کرنے والی بہنو! بشارت ہو کہ ہمارے غمخوار اور خیر خواہ (امام) نے آپ کے لئے ہاں آپ کی نازک و پُر درد حالت پر رحم کھا کر آپ کے احساسات کو پُر لطف بنانے کے لئے ایک زنانہ اخبار جاری کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔اب آپ پوری ہمت اور پورے جوش اور پورے استقلال سے اسے قدر دانی کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لیں جس طرح ( بیت) لندن کے چندے میں بے مثل ہمت اور بے نظیر قربانی کا ثواب احمدی خواتین کو ملا حتی کہ دوسری ہمسایہ قوموں نے مثال کے طور پر اپنی مستورات میں اس محدود غریب قوم کی حقیر جنس کو پیش کیا اور اسی طرح ہاں ٹھیک اسی طرح سے اب اپنے اخبار کو فروغ دو روزنامه الفضل 14 دسمبر 1926ء) آخر 15 دسمبر 1926ء کو اس کا پہلا پرچہ شائع ہوا اس رسالہ کا نام مصباح رکھا گیا۔مصباح کی سب سے پہلی خریدار اہلیہ عبدالحفیظ صاحب ویر و وال ضلع امرتسر تھیں اور دوسری اہلیہ با بوعلی محمد صاحب شہر فیروز پور تھیں۔یہ اخبار دو بار یکم اور پندرہ کو نکلتا تھا۔حجم سولہ صفحے اور سالانہ قیمت اڑھائی روپے تھی۔ایک کٹر آیہ سماجی اخبار تیج کی رائے مصباح کے متعلق یہ تھی کہ :۔” میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے۔اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق جو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پردہ کے اندر بند رہتی ہیں اس لئے کچھ کام نہیں کرتیں فی الفور دور ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ عورتیں باوجود کے ظالمانہ حکم کے طفیل پر دہ کی قید میں رہنے کے کسی قدر کام کر رہی ہیں اور ان میں مذہبی احساس اور۔۔۔۔جوش کس قدر ہے ہم استری سماج قائم کر کے مطمئن ہو چکے ہیں لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ احمدی عورتوں کی ہر جگہ با قاعدہ انجمنیں ہیں اور جو وہ کام کر رہی ہیں اس کے آگے ہمارے استری سماجوں کا کام بالکل بے حقیقت ہے۔مصباح کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ احمدی عورتیں ہندوستان ، افریقہ، عرب، مصر، یورپ اور امریکہ میں کس طرح اور کس قدر کام کر رہی ہیں۔ان کا مذہبی احساس اس قدر قابل تعریف ہے کہ ہم کو شرم آنی چاہئے۔چند سال ہوئے ان کے امیر