خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 67 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 67

خطابات مریم 67 20 تحریرات ناصرات الاحمدیہ روز نامه الفضل ربوہ 8 اکتوبر 1989 ء کے صفحہ 4 میں ناصرات الاحمدیہ کے آغاز کے سلسلہ میں ایک نوٹ مکرم خلیل احمد صاحب ناصر کی طرف سے شائع ہوا تھا جو اختصاراً درج ذیل ہے۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ پاکستان اس مضمون کے متعلق تحریر فرماتی ہیں جہاں تک مجھے یاد ہے کہ صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ جو ان دنوں دینیات کلاسز میں پڑھ رہی تھیں اُنہوں نے تحریک کی تھی اور ان لڑکیوں کی مجلس ناصرات الاحمدیہ کہلاتی رہی لیکن بعد میں جب 1945ء میں مجلس عاملہ مرکزیہ کی تشکیل ہوئی تو حضور نے ناصرات الاحمدیہ کے لئے بھی وہی عمر مقرر فرمائی جو اطفال کی ہے یعنی 8 سال سے پندرہ سال تک کی۔ناصرات الاحمدیہ کے قیام پر اب قریباً پچاس سال ہونے کو آئے ہیں۔اس طویل عرصہ میں ان کی یادیں بھی جو اُن خوشگوار اور مبارک ایام میں مرکز سلسلہ میں مقیم تھے کچھ نہ کچھ دھندلی ہونی شروع ہو جاتی ہیں لیکن بعد کی نسل کو بالواسطہ روایات پر انحصار کر کے تاریخ کو محفوظ کرنا پڑتا ہے۔اس لئے طبعی امر ہے کہ بعض دفعہ پُرانے واقعات پوری صحت کے ساتھ نہیں لکھے جاتے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ ناصرات الاحمدیہ کے قیام کے سلسلے میں بھی بعض اہم تفاصیل واقعات کے مطابق شائع نہیں ہوئیں میرے لئے یہ امر باعث سعادت ہے کہ اس بارے میں بعض امور کا ذاتی طور پر براہ راست علم ہے جو مختصراً درج ذیل ہے۔جماعت احمدیہ کی ہر چہار تنظیمیں لجنہ اماءاللہ ، خدام الاحمدیہ ، ناصرات الاحمدیہ اور انصار الله۔۔۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے زمانہ امامت میں قائم ہوئیں۔ان میں سے لجنہ اماء اللہ کا قیام تو ابتدائی سالوں میں ہی ہو گیا تھا لیکن خدام الاحمدیہ کی بنیا د حضور نے 19ء کے بعد رکھی۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ان دنوں صاحبزادی سیدہ امۃ الرشید صاحبہ نے مجھے