خطابات مریم (جلد دوم) — Page 532
خطابات مریم 532 خطابات دورہ جہلم 12 مارچ 1989ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ جہلم وہ جگہ ہے جس نے حضرت مسیح موعود کی قدم بوسی کا شرف حاصل کیا ہے۔پاکستان میں تین مقامات لاہور، سیالکوٹ اور جہلم کو یہ سعادت حاصل ہے۔جہلم میں حضور مولوی کرم دین کے مقدمہ کے سلسلہ میں تشریف لائے تھے۔مخالفین آپ کے خلاف حربوں میں مصروف تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی اس رنگ میں معاونت فرمائی کہ ایک ہزار کے قریب افراد نے اُس وقت آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔1903ء میں مقدمہ کی پیشی پر اس قدر مخلوق آپ کے چہرہ مبارک کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب تھی کہ انتظام کرنے والوں کیلئے بہت دشواری پیش آئی تھی۔بزرگ افراد نے بیعت کے بعد بہت سی قربانیاں پیش کیں۔مجھے افسوس ہے کہ یہاں کے بزرگوں نے اس قدر قربانیاں دیں لیکن ان کی نسلوں میں سے بعض نے ویسی استقامت نہ دکھائی اور احمدیت سے پھر گئے۔یہاں تعداد کی جو کمی ہے اُسے دعاؤں سے بدلنے کی کوشش کریں۔اب سے چند دنوں کے بعد جماعت احمد یہ انشاء اللہ نئی صدی میں داخل ہوگی۔خدا تعالیٰ کا اپنے نبی سے وعدہ ہے کہ میں احمدیت کو غلبہ عطاء کرونگا۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں تو صرف تخم ریزی کیلئے آیا ہوں۔یہ پیج خوب بڑھے گا اور پھلے پھولے گا۔خدا کی بشارات پوری ہوں گی آسمان و زمین مل سکتے ہیں لیکن خدا کا وعدہ ہر گز نہیں ٹل سکتا۔آپ کو معلوم ہے کہ قادیان کی بستی سے جو گونج اُٹھی تھی وہ خدا کے فضل سے پھیلتی چلی گئی اور اب دنیا کے ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت پھیل چکی ہے۔آپ نے قربانیاں دینے والوں کے متعلق فرمایا کہ ان کا کسی طرح مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔سابقون ہمیشہ سابقون ہی ہوتے ہیں۔اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے تقویٰ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور