خطابات مریم (جلد دوم) — Page 381
خطابات مریم 381 خطابات یا رسول اللہ وہ کون سی جماعت ہوگی تو آپ نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اگر ایمان ثریا ستارہ پر بھی چلا جائے گا تو یہ لوگ ایمان کو وہاں سے واپس لے آئیں گے۔اسی وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مہدی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تا کہ آپ کے ذریعہ سے اسلام کا غلبہ ہو۔آپ کے ذریعے بھٹکی ہوئی انسانیت پھر اپنے رب کا پیار حاصل کر سکے اور روحانی طور پر وحشی درندے پھر باخدا اور خدا نما انسان بن جائیں اور ساری دنیا کی ہدایت کا فریضہ سرانجام دیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہاما آپ کے آنے کی غرض یہ بتائی تھی کہ يُحْيِ الدّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة ( تذکرہ صفحہ 55) آپ کوئی نیا دین نہیں لائے کوئی نئی شریعت نہیں بنائی آپ کے آنے کی غرض تو پھر سے دین اسلام کا احیاء اور شریعت کا قیام تھا۔آپ نے تو فرمایا میں نے جو کچھ پایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں پایا ہے۔آپ کے آنے کی غرض صرف یہ تھی کہ گلستان محمد میں پھر سے بہار آئے۔وہ درخت جوسو کھے پڑے ہیں وہ ہرے ہو جائیں پھلیں پھولیں اور دنیا ان کے پھولوں کی خوشبو سے مہک اُٹھے۔اس کام کو سرانجام دینے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں ہم میں ہر بہن قرآن کریم کا ترجمہ جانتی ہو۔علم کے بغیر عمل ناممکن ہے کیونکہ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فاتبعوہ اس کی پیروی کرو۔عمل تبھی ہو سکتا ہے جب آپ کو معلوم ہو کہ قرآن میں لکھا کیا ہے ہم ان میں سے کئی بار قرآنی احکام تو ڑ دیتے ہیں محض نادانی اور جہالت سے کہ ہمیں علم نہیں تھا کہ اس سلسلہ میں قرآن کریم کا کیا حکم تھا اور کس بات کے کرنے سے منع کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔"سوتم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے“۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 26) بڑا انذار ہے اس میں میری بہنو! میں آپ کو توجہ دلاتی ہوں کہ آپ ساری کوشش قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے اور سکھانے کیلئے کریں ہر حلقہ کی لجنہ اپنے حلقہ میں ترجمہ سکھانے کی