خطابات مریم (جلد دوم) — Page 14
خطابات مریم 14 تحریرات محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه مرحومه استانی جی مرحومہ کے متعلق میری سب سے پہلی یادداشت اند ز آسات یا آٹھ سال کی عمر کی ہے۔میرے ابا جان مرحوم حضرت میر محمد اسماعیل صاحب سال میں ایک دفعہ چھٹی لے کر قادیان کچھ عرصہ گزارہ کرتے تھے میں غالباً تیسری جماعت میں پڑھتی تھی۔حضرت ابا جان سب کو لے کر قادیان آئے اور مجھے سکول داخل کر دیا تا کہ پڑھائی کا حرج نہ ہو۔قادیان کا سکول ان دنوں مدرستہ البنات کہلاتا تھا۔دو منزلہ عمارت تھی۔استانی میمونہ صاحب پڑھایا کرتی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی صاحبزادی امتہ الحمید بیگم صاحبہ بھی اسی کلاس میں تھیں۔پہلے دن ہی استانی جی نے مجھے اپنے گھٹنہ پر بڑے پیار سے بٹھایا اور دوسرے گھٹنہ پر امتہ الحمید کو بٹھالیا اور کہا کہ دونوں دوستی کر لو اور مل کر پڑھا کرو۔ایک ڈیڑھ ماہ ہم قادیان رہ کر واپس چلے گئے۔اس کے بعد مجھے اُستانی جی سے ملنا یا دنہیں۔جلسہ سالانہ پر آتے بھی تو دور دور سے دیکھا ہوگا۔1932 ء میں میں نے مڈل کا امتحان پاس کیا تو حضرت ابا جان نے مجھے رہتک سے قادیان بھجوا دیا تا میں اپنے نانا ابا مرزا محمد شفیع صاحب مرحوم کے گھر رہ کر گرلز ہائی سکول میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کروں اور سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کروں۔قادیان کا سکول اس وقت ہائی ہو چکا تھا اور اس کی ہائی کلاسز چوہدری غلام حسین صاحب مرحوم کے مکان میں جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے مکان کے بالکل ساتھ ہے میں جاری کی گئی تھیں۔میرے لئے میری سب ہم جماعتیں نئی تھیں۔میری دوستی جاتے ہی حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی بیٹی امتہ الودود اور استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی بیٹی صادقہ سے ہوگئی اور جب تک تعلیم جاری رہی سکول میں تینوں اکٹھے پڑھتے۔صادقہ کی وجہ سے استانی جی کے گھر اکثر جاتی تھی اور وہ مجھ سے بیٹیوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔سکول میں طالبات کی تربیت میں سب سے زیادہ اور نمایاں کردار استانی جی کا تھا کسی کی ذراسی بھی بُری حرکت برداشت نہ کر سکتی