خطابات مریم (جلد دوم) — Page 233
خطابات مریم 233 خطابات کے بے یار و مددگار نہ ہو۔یہ ایک مشکل مقام ہے جو انسان کو حاصل کرنا چاہئے۔اسی مقام پر پہنچ کر وہ سچا خدا پرست بنتا ہے“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 97) پس ہمیں چاہئے کہ ہمارے ہر کام اور ہر تقریب میں سادگی ہو، تکلف نہ ہو، کوئی بدعت اور رسم جنم نہ پائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔جو چیز بُری ہے وہ حرام ہے اور جو چیز پاک ہے وہ حلال۔خدا تعالیٰ کسی پاک چیز کو حرام قرار نہیں دیتا بلکہ تمام پاک چیزوں کو حلال فرماتا ہے۔ہاں جب پاک چیزوں میں ہی بُری اور گندی چیزیں ملائی جاتی ہیں تو وہ حرام ہو جاتی ہیں اب شادی کو رف کے ساتھ شہرت کرنا جائز رکھا گیا ہے لیکن اس میں جب ناچ وغیرہ شامل ہو گیا تو وہ منع ہو گیا اگر اسی طرح پر کیا جائے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کوئی حرام نہیں“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 355،354) غرض جماعت احمدیہ کے مرد ہوں یا عورت ان کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں گزرنی چاہئیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا کہ ایسی جماعت تیار کرے جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اور اسے اللہ تعالیٰ کی محبت کی لذت ساری لذتوں سے بڑھ کر حاصل ہو۔خودحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔میں یہی نمونہ صحابہ کا اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو وہ مقدم کر لیں اور کوئی امران کی راہ میں روک نہ ہو وہ اپنے مال و جان کو بیچ سمجھیں۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 422) اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایک ایسی جماعت بنائے گا جو ہر جہت میں سب پر فوقیت رکھے گی اللہ تعالیٰ ہر طرح کا فضل کرے گا مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے نفس کا تزکیہ کرے ہاں کمزوری میں اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے جو شخص کمزور ہے اور ہاتھ اُٹھاتا ہے کہ کوئی اس کو پکڑے اور اُٹھائے اس کو اُٹھایا جائے گا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 505)