خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 72
72 نفس کا خیال رکھا۔مجھے یاد ہے کہ قادیان میں مجھے ان کی زور سے ڈانٹنے کی آواز آئی میں اندر کمرہ میں تھی ایک دم اس خیال سے باہر نکلی کہ دیکھوں کہ کیا بات ہے کے ڈانٹ رہے ہیں حضور کسی کو پڑھائی ٹھیک نہ کرنے پر ناراض ہورہے تھے میں اس وقت واپس چلی گئی۔تھوڑی دیر کے بعد اندر آئے اور کہنے لگے کہ جب میں اپنے بچے کو ڈانٹ رہا تھا تو تمہیں وہاں آنا نہیں چاہیے تھا۔اس سے وہ شرمندہ ہو گا کہ مجھے تمہارے سامنے ڈانٹ پڑی۔بیٹیوں سے بھی بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔لیکن جہاں دین کا معاملہ آجائے آنکھوں میں خون اتر آتا تھا۔نماز کی سنتی بالکل بھی برداشت نہ تھی۔اگر ڈانٹنا ہے تو نماز نہ پڑھنے پر۔بچوں کے دل میں شروع دن سے یہی ڈالا کہ سب دین کے لئے وقف ہو۔ان کو دینی تعلیم دلوائی۔جب 1918ء میں شدید انفلوئنزا کا حملہ ہو کر بیمار ہوئے تھے اور اپنی وصیت شائع کروائی تھی اس میں بھی یہ وصیت فرمائی تھی کہ بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلوائی جائے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کر سکیں جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جائے۔مئی 1959ء میں جب بیماری کا دوبارہ حملہ ہوا تو اس وقت بھی ایک وصیت کی تھی کہ اس میں بھی یہی تاکید تھی کہ وہ ہمیشہ اپنی کوششوں کو خدا اور اس کے رسول کی خاطر خرچ کرتے رہیں خدا کرے قیامت تک وہ اس نصیحت پر عمل کریں اور اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ان کو قیامت تک کے لئے اسلام کا سچا خادم بنائے اور اسلام کے ہر دشمن کے لئے حق کا ایک زبر دست پنجہ ثابت ہوں اور ان کی زندگیوں میں کوئی شخص اسلام کو ٹیڑھی نظر سے نہ دیکھ سکے۔“ حضور کا ایک عہد :۔حضور نے 1939 میں ایک عہد بھی کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک میں جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں یاداشت لکھنے کے لئے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے۔" آج 14 مئی 1939ء کو مرزا بشیر الدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کر رہا میں اس کے گھر کا کھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا یہ عہد سر دست ایک سال کے لئے ہوگا۔“ ( مرزا محمود احمد ) اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق آپ کی اولاد کو تو فیق عطا فرمائی کہ انہوں نے بچپن سے ہی اپنی زندگیاں وقف کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے قریباً سب ہی دین اور سلسلہ کی خدمت کر