خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 73 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 73

73 رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مزید قربانیوں اور خدمتوں اور علم دین سکھانے کا موقع عطا فرمائے اور ان کی قربانیوں کے نتیجے میں ان کے مقدس والد کی روح کو خوشی پہنچتی رہے۔آمین اللهم آمین۔إِيتَاءِ ذِي القُربى جس پر بڑا زور قرآن مجید میں دیا گیا اور كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن (مسنداحمد بن عبل جلد 6 صفحہ 91) کے تحت جس کا عملی نمونہ آنحضرت ﷺ کے وجود سے ظاہر ہوا تھا اس پر جو عمل حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے کیا وہ عدیم المثال ہے میں نے کئی بار آپ کے منہ سے یہ بات سنی آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ رشتہ داروں کی مدد بطور احسان کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ذی القربی کی مد دانسان پر فرض رکھی ہے۔تمہارے مالوں میں ان کا حق ہے ان کا حق ان کو دو۔اپنے عزیزوں۔بیویوں کے عزیز۔عزیزوں کے عزیز کوئی بھی ایسا نہیں نکلے گا کہ کسی کو کوئی ضرورت پیش نہ آئی ہو اور آپ نے اس کی طرف دست مروّت نہ بڑھایا ہو۔اس کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی خود ہی خیال رکھا۔افراد جماعت سے غیر معمولی محبت :۔جماعت کے افراد کا تو کہنا ہی کیا۔یہ حقیقت ہے کہ جماعت کے افراد آپ کو اپنی بیویوں۔اپنے بچوں اور اپنے عزیزوں سے بہت زیادہ پیارے تھے ان کی خوشی سے آپ کو خوشی پہنچتی تھی اور ان کے دکھ سے میں نے بارہا آپ کو کرب میں مبتلا ہوتے دیکھا۔جب آپ خلیفہ ہوئے تو اسی سال جلسہ سالانہ پر تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تھا۔مگر خدا را غور کرو۔کیا تمہاری آزادی میں پہلے کی نسبت کچھ فرق پڑ گیا ہے۔کیا کوئی تم سے غلامی کرواتا ہے یا تم پر حکومت کرتا ہے یا تم سے ماتحتوں غلاموں اور قیدیوں کی طرح سلوک کرتا ہے۔کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے روگردانی کی ہے کوئی فرق ہے؟ کوئی بھی فرق نہیں لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا در در رکھنے والا تمہاری محبت رکھنے والا تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے مگر ان کے لئے نہیں۔تمہارا اسے فکر ہے درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولا کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے لئے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔“ برکات خلافت انوار العلوم جلد 2 صفحہ 156