خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 767
767 مجلس دینیات جامعہ نصرت ربوہ سے صدر صاحبہ لجنہ مرکز یہ کا اہم خطاب دینیات کے امتحان میں اول آنے والی طالبہ کے لئے نصرت جہاں میڈل کے اجراء کا اعلان سال رواں مجلس و بینیات کے تحت ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا اس اجلاس کی سب سے بڑی غرض وہ انعام تقسیم کرنا تھے جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے جامعہ نصرت کی طالبات کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔جلسہ تقسیم اسناد 1968ء کے موقع پر حضور ایدہ اللہ نے فرمایا تھا۔آئندہ سال جو طالبہ قرآن مجید اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے امتحان میں اول آئے گی میری طرف سے اس کو سال بھر کی ٹیوشن فیس بطور انعام دی جائے گی۔“ چنانچہ دوران سال طالبات نے حضور کے اس ارشاد کو اپنا مطمع نظر بنائے رکھا۔اور خدا کے فضل واحسان سے جامعہ نصرت کی تمام کلاسز نے وہ انعام حاصل کر لیا۔66 حضرت سیدہ ام متین صاحبہ نے طالبات جامعہ نصرت کو نہایت ہی قیمتی نصائح سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ مجھے مجلس دینیات جامعہ نصرت کی رپورٹ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے اس مجلس کا قدم اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کی طرف ہے آج کا جلسہ بہت ہی اہم ہے کیونکہ اس کی غرض وہ انعام تقسیم کرنا ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جامعہ نصرت کی طالبات کے لئے مقرر فرمایا تھا سو الحمد للہ خدا کے فضل سے کالج کی چاروں کلاسز نے وہ انعام حاصل کیا۔میں طالبات، پرنسپل جامعہ نصرت اور اساتذہ کو مبارکباد دیتی ہوں اور آئندہ کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کی تلقین کرتی ہوں اور امید رکھتی ہوں کہ طالبات فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ سال بھی اس انعام کو حاصل کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گی۔اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا میں بارہا کہتی رہی ہوں کہ اس کالج کی طالبہ کی اصل غرض دینی تعلیم حاصل کرنا ہے۔اگر صرف کتابیں رٹ لینا انعام حاصل کرنا ہی مقصد ہو تو کیا فائدہ۔آپ قرآن مجید پڑھتی ہیں اس کی غرض صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ اس کا مقصد ہے کہ پڑھنے کے بعد اس پر عمل بھی کیا جاوے اگر قرآنی احکامات پر آپ کا عمل نہ ہو تو قرآن مجید پڑھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔