خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 748
748 خطاب لجنہ اماءاللہ گجرات 13 مئی 1967ء کو ضلع گجرات میں حاضرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔سب مسلمانوں کا دعوئی اور اتفاق ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کی تعلیم عالمگیر ہے اور یہی ایک کامل شریعت ہے۔جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی معنوں میں قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے سے پیدا ہو سکتی ہے۔مسلمانوں کے لئے حضرت رسول کریم کی ذات ایک کامل نمونہ ہے۔آپ کا نام بھی محمد ﷺ اور کام بھی محمد ﷺ تھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ تمہارے لئے اُسوہ حسنہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے چنانچہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس نسخہ پر عمل کیا اور دنیا کے فاتح اور بادشاہ بن گئے۔ان کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے دنیا ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتی تھی۔آتمکر مہ صدر صاحبہ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جب مسلمانوں نے قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔جب دعوئی تو یہ کرتے تھے کہ انسانی نجات قرآن کریم پر عمل کرنے سے ملتی ہے لیکن عمل اس کے خلاف تھا۔تو وہی قوم جس نے ترقی کی انتہائی منازل طے کر لی تھیں۔قعر مذلت میں گرتی چلی گئی۔اب جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے ایسا ملک عطا فرمایا ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ہمیں چاہئے کہ قرآن کریم کو لائحہ عمل بنائیں۔اور جن باتوں سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہیں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔آپ نے نہایت مؤثر انداز میں معاشرہ میں قائم شدہ برائیوں مثلاً تعویز گنڈوں قبر پرستی اور ایک دوسرے کی غیبت کرنے سے منع فرمایا۔اور زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے سے حسن سلوک کرنے کی تلقین فرمائی۔غیبت کی برائی کو آپ نے دلنشیں پیرایہ میں واضح فرماتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ اسلام نے بُرائی کی اشاعت سے سختی سے منع فرمایا ہے۔رسومات سے مجتنب رہنے کی تاکید کی۔آخر میں آپ نے ماؤں کی اس عظیم ذمہ داری کی طرف انہیں توجہ دلائی کہ اولاد کی اعلیٰ تربیت جس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں اسلام کے احکام پر عمل کرنے اور اسلام کی خاطر بے لوث قربانیاں دینے کی روح پیدا ہو ماؤں کا ہی کام ہے۔جس دن ہمارے بچوں اور بڑوں میں اسلام کی خاطر قربانیاں دینے اور اس کی خاطر ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔