خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 747
747 خطاب بر موقعہ جلسہ تقسیم انعامات فضل عمر جونیئر ماڈل سکول ربوہ 9 مئی 1967 فضل عمر جو نیئر ماڈل سکول کے جلسہ تقسیم انعامات کے انتقام پر فرمایا:۔سے پہلے میں ان سب بچوں کو جنہوں نے آج جلسے میں انعامات حاصل کئے ہیں مبارکباد پیش کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا انعام حاصل کرنا مبارک کرے۔میرے بچو! تمہیں تو اس سکول میں صرف اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ تمہیں بچپن سے مذہب سے محبت ہو۔نماز پڑھنے کی عادت ہو۔اعلیٰ اخلاق کے حامل بنو۔جو بھی دیکھے وہ اس بات سے خوش ہو کہ ہمارے بچے قرآن مجید کی تعلیم کا نمونہ ہیں۔اس کے لئے میں اس سکول کی اسا تذات سے بھی کہتی ہوں کہ وہ مغربیت کو دور کریں۔ہمارے سکول کا ماحول خالص دینی اور خالص مشرقی ہو۔یہ چھوٹے چھوٹے بچے جو چار سال کے داخل ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اُستانیوں کا یہ رتبہ بہت عزت کا ہے۔جو اُن کو ملا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنی اولاد کیلئے دعائیں کرتے رہتے تھے۔آپ نے فرمایا کہ یہ سب آپ کی روحانی اولاد ہیں۔اگر ہم بچے کے دماغ سے دجالیت کا کیٹر انہیں نکالتے تو وہ کس طرح کا سر صلیب بن سکتے ہیں۔وہ کا سر صلیب تبھی بن سکتے ہیں جب ان کی تعلیم و تربیت خالص اسلامی طریق پر ہو۔ہیڈ مسٹریس سے لیکر نرسری تک کی اُستانی کا یہ فرض ہے کہ وہ بچے کی ہر بات کی طرف خاص کر دینی باتوں کا دھیان رکھے۔خدا کرے یہ سکول روز بروز بڑھے۔پچھلے پھولے اور اس میں تعلیم پانے والے حقیقت میں حضرت فضل عمر کے جانثار ہوں۔مصباح جون 1967