خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 57
6 57 مفت میں نے کہا میں کیا پیش کر سکتا ہوں جو کچھ ہے وہ آپ کا ہی دیا ہوا ہے۔” جان اور ایک چیز سب سے عزیز۔۔۔میں نے ویسی فجر کی نماز ساری عمر نہ پڑھی تھی۔اُف وہ خوشی وہ عجیب اور نئی قسم کی خوشی وہ لازوال اور لاانتہا خوشی میرا ہر ذرہ تن قریب تھا کہ اس خوشی سے پھٹ جائے یا شادی مرگ ہو جائے۔زہے نصیب وہ اور مجھے اپنا چہرہ دکھا ئیں وہ اور مجھ سے میری جان کا مطالبہ کریں وہ اور مجھ سے ایک عزیز چیز کی نذر طلب کریں۔دن کے آٹھ نہیں بجے تھے کہ ایک سیاہ بکرا اور ایک سفید مینڈھا کو چہ بندی میں کٹے پڑے تھے۔اور عالم روحانی میں ان کے ساتھ دو اور نفس بھی ذبیح ہو چکے تھے۔اور بارہ نہیں بجے تھے کہ میری سب سے عزیز چیز یعنی مسجد مبارک والا مکان میرے قبضہ سے نکل کر صدرانجمن کی تحویل میں منتقل ہو چکا تھا۔ان باتوں سے فارغ ہو کر گھر گیا تو ایک اور عزیز چیز نظر آئی جس کا نام مریم صدیقہ تھا۔میں نے اسے اُٹھا کر کہا کہ اس کا نام ہی شاہد ہے۔میرا پہلے سے بھی ارادہ تھا۔اب اسے بھی قبول فرمائے۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العِليم 1921 ء پر چودہ سال گزر چکے مسلسل چودہ سال ( یہ واقعہ 1921 ء کا تھا۔بیم ورجا کے کہ آیا کچھ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں۔۔بہر حال 1935ء میں خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا کہ آخر نذرکو ان کے ایجنٹ 30 ستمبر یوم دوشنبہ کو آکر میرے ہاں سے اُٹھا کر لے گئے۔میں نے سجدہ ادا کیا۔میری شادی 30 ستمبر 1935ء کو ہوئی تھی۔) الفضل 3 نومبر 1936 اس اقتباس کو درج کرنے سے یہ بتانا مقصود تھا کہ میرے ابا جان نے میرے پیدا ہوتے ہی مجھے خدا تعالیٰ کے حضور وقف کر دیا تھا۔اور پھر یہ وقف رسمی وقف نہ تھا۔ان کی شدید خواہش تھی کہ میں جو ان کی اولاد میں سب سے بڑی تھی دین کی خدمت کروں۔اور اللہ تعالیٰ ان کی اس قربانی کو قبول فرمائے۔سواللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ نہ صرف اس نے ان کی قربانی کو شرف قبولیت عطا فرمایا بلکہ مجھے ایک لمبے عرصہ تک حضرت مصلح موعود کی خدمت کا موقعہ عطا فرمایا۔اور کسی حد تک سلسلہ کی خدمت کا بھی۔اللہ تعالیٰ سے میری بھی یہی دعا ہے کہ وہ مجھے اپنی بقیہ زندگی کو اسلام احمدیت اور بنی نوع انسان کی خدمت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔تاجب میں اس کی جناب میں حاضر ہوں تو خدا تعالیٰ کی رضا مجھے حاصل ہو۔میں بھی سرخرو ہوں اور میرے ابا جان کی روح بھی خوش ہو کہ میں ان کی دلی خواہش کو پورا کرنے کا موجب بنی۔آمین اللھم آمین