خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 58 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 58

58 میری عمر شادی کے وقت سترہ سال تھی۔اور یہ سترہ سالہ زمانہ جو میں میں نے میکے میں بسر کیا۔اس کا ایک ایک دن شاہد ہے کہ میری تربیت کرتے ہوئے حضرت ابا جان نے ہر وقت یہی کان میں ڈالا کہ ہر صورت میں دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔میں جب چھوٹی تھی تو میرے لئے ابا جان نے ایک دعائیہ نظم بھی کہی تھی جس کا آخری شعر یہ تھا۔۔میرا نام ابا نے نے رکھا ہے مریم خدایا تو صدیقہ مجھ کو بنادے ابا جان کہ یہ دعا جو انہوں نے میرے لئے کی تھی ظاہری رنگ میں بھی اس طرح پوری ہوئی کہ جب میری شادی ہوئی تو حضرت اُم طاہر زندہ تھیں۔آپ کا نام بھی مریم تھا۔اور چونکہ حضور ان کو مریم کے نام سے بلاتے تھے۔اور ایک ہی نام سے دونوں بیویوں کو بلانا مشکل تھا۔آپ نے شروع شادی سے ہی میرے نام کے دوسرے حصہ سے مجھے بلایا۔اور ہمیشہ صدیقہ کہہ کر ہی بلایا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے میرے ابا جان کی قربانی کو قبول فرماتے ہوئے مجھے حضرت مصلح موعود کی زوجیت کا فخر عطا فرمایا۔آج کل جس عمر میں لڑکیوں کی شادیاں ہو رہی ہیں۔ان کو مد نظر رکھتے ہوئے میری شادی خاصی چھوٹی عمر میں ہوئی تھی۔اسلئے بجاطور پر میں کہہ سکتی ہوں کہ میں نے جو کچھ سیکھا اور جو کچھ حاصل کیا۔اور جو کام بھی کیا وہ خلیفہ اسیح الثانی کی تربیت صحبت، فیض اور توجہ سے حاصل کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی زندگی کا تو ایک ایک واقعہ احمدیت کی تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔میں اپنے اس مضمون میں آپ کی مقدس سیرت کی کچھ جھلکیاں پیش کرنے کی کوشش کروں گی۔اور یہ واقعات اسی زمانہ پر مشتمل ہوں گے۔جو میں نے آپ کے ساتھ گزارا۔اللہ تعالیٰ سے محبت آپ کو اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت تھی۔اسلام کے لئے کتنی تڑپ تھی۔اس کی مثال کے طور پر ایک واقعہ لکھتی ہوں۔عموما شادیاں ہوتی ہیں۔دولہا دلہن ملتے ہیں تو سوائے عشق ومحبت کی باتوں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔مجھے یاد ہے کہ میری شادی کی پہلی رات بے شک عشق و محبت کی باتیں بھی ہوئیں۔مگر زیادہ تر عشق اٹھی کی باتیں تھیں۔آپ کی باتوں کا لب لباب یہ تھا اور مجھ سے ایک طرح عہد لیا جارہا تھا کہ میں ذکر الہی اور دعاؤں کی عادت ڈالوں۔دین کی خدمت کروں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی عظیم ذمہ داریوں میں