خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 728
728 فضل عمر فاؤنڈیشن اور لجنہ اماءاللہ کا فرض حضرت مصلح موعود فضل عمر خلیفہ اسیح الثانی کا وجود احمدی مستورات کے لئے سراپا رحمت تھا سراپا شفقت تھا۔آپ نے جو احسانات عورتوں پر کئے وہ قیامت تک نہیں بھلائے جاسکتے۔احمدی خواتین کی موجودہ ترقی کا سہرا صرف آپ کے سر پر ہی ہے۔آپ نے عورتوں کو منظم کیا ان میں کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنے اور قومی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم کی جس کی ابتداء چودہ ممبرات سے ہوئی اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے سب دنیا میں پھیل چکی ہے۔آپ نے عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ فرمائی ان کے لئے سکول اور کالج جاری فرمائے عورتوں کی تربیت کی نگرانی بذات خود فرمائی۔جہاں کمزوری دیکھی دور کرنے کی کوشش فرمائی۔جہاں خوبی نظر آئی عورتوں کی دلداری کی خاطر ان کو ابھارنے کی خاطران کی تعریفیں کیں۔عورتوں کے حقوق دلوائے۔ساری جماعت سے جلسہ پر عہد لیا کہ عورتوں کو ورثہ ضرور دینا ہے۔غرض کہ آپ نے عورتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ان کی تعلیم کے لئے ان کی تربیت کے لئے ان کی عزت قائم کرنے کے لئے ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے ایک چوکھی لڑائی لڑی ہے۔آج وہ محسن جماعت محسن نسواں محسن انسانیت ہم میں موجود نہیں۔اشاعت اسلام کی جو تدابیر آپ نے اختیار کی تھیں۔جو سکیمیں آپ نے بنائی تھیں ان کو فروغ دینے کے لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فضل عمر فاؤنڈیشن کا قیام فرمایا جس کا ابتدائی سرمایہ پچیس لاکھ روپے ہوگا۔تا آپ کے جاری کردہ کاموں کو پہلے سے بھی زیادہ بہتر صورت میں جاری رکھا جائے اور ان کو ترقی دی جائے۔یہ سکیم تین سال کے لئے ہے۔تین سال کے عرصہ میں جماعت نے پچیس لاکھ روپے جمع کرتے ہیں۔اس چندہ کے جمع کرنے کی ذمہ داری صرف مردوں پر عائد نہیں ہوتی۔بلکہ عورتوں پر مردوں سے بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جن کی بہبودی اور ترقی کے لئے آپ نے اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں خرچ کردیں۔پس میری بہنو۔اٹھو اپنے اخراجات میں کمی کرو۔سادگی اختیار کرو۔غیر ضروری اخراجات سے مجتنب رہتے ہوئے فضل عمر فاؤنڈیشن“ کی تحریک میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر اپنے محبوب محسن سے محبت کا ثبوت دو۔وہ محبوب آقا جس نے آپ کی خاطر اپنی جان گھلا دی۔جس نے آپ کی تعلیم ، تربیت اور ترقی