خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 48 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 48

حَكِيمٌ۔الانفال: 64,63 جو فرقے یا سوسائٹیاں اپنے طور پر اور اپنی تدبیروں سے بنتے ہیں ان میں جلد ہی تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی بنیاد انسانی خیال پر ہوتی ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مانے والوں میں اس درجہ کی محبت اور الفت اور ایثار کا پیدا ہو جانا جہاں آپ ﷺ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسیہ پر دلالت کرتا ہے وہاں آپ ﷺ کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کی ہستی کو روز روشن کی طرح ثابت کرتا ہے۔بے نظیر محبت :۔انحضرت ﷺ کی بے مثال قوت قدسیہ کے نتیجہ میں جو بے نظیر محبت آپ ﷺ کے صحابہ کو آپ ﷺ کی ذات سے پیدا ہوئی اس کی ایک مثال جنگ احد کا وہ واقعہ ہے جب غلطی سے صحابہ میں یہ خبر مشہور ہوگئی تھی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔حضرت عمر یہ خبر سن کر رونے لگ گئے مالک نامی ایک صحابی بیٹھے کھجور کھا رہے تھے۔ان کو جنگ کے بعد کے بدلے ہوئے حالات کا علم نہ تھا وہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمان فتح پاچکے ہیں انہوں نے حضرت عمرؓ سے سوال کیا عمر کیوں رور ہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا شاید تمہیں معلوم نہیں مسلمانوں کو شکست ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں وہ کہنے لگےعمر! پھر اس میں رونے کی کیا بات ہے میرے اور میرے محبوب کے درمیان یہ کھجور ہی تو حائل ہے یہ کہ کر کھجور چھینکی اور تلوار سونت کر دشمنوں پر جا گرے اور نہایت بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔اسلامی جنگوں کے چند واقعات:۔جنگ حنین کے موقع پر جب آنحضرت ﷺ نے بھاگتے ہوئے انصار کو آواز دی کہ اے انصار خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ قیامت کا دن ہے اور صور پھونکا جا رہا ہے ایک صحابی کہتے ہیں کہ اس دن انصار اس طرح دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف جارہے تھے جس طرح اونٹنیاں اور گائیں اپنے بچہ کے چیخنے کی آواز سُن کر دوڑتی ہیں اور تھوڑی دیر میں صحابہ کہتے ہیں کہ جس کی سواری میدان جنگ کی طرف جانے کیلئے نہ مڑتی تھی۔صحابہ تلوار میں مار مار کر اس کو مجبور کرتے تھے ورنہ سواری کو ذبح کر کے پیدل بھاگ پڑتے تھے دنیا کی کوئی تاریخ ایسی مثال پیش نہیں کر سکتی کہ کسی بھی لیڈر کی ایک آواز پر اس کی قوم کے لوگ اس طرح دیوانہ وار دوڑے ہوں۔یہ سب محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ کے نتیجہ میں پیدا شدہ محبت کی وجہ سے تھا۔