خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 49 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 49

اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدِ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ کی ایک اور مثال پیش کرتی ہوں جنگ حنین کا ہی واقعہ ہے کہ شیبہ نامی ایک شخص لڑائی میں شامل تھا وہ کہتا ہے کہ میں اس نیت سے جنگ میں شامل ہوا تھا کہ موقع ملتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا۔لڑائی میں جب زور کا رن پڑ رہا تھا تو میں نے تلوار سونتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع ہوا۔وہ کہتا ہے اس وقت میں نے محسوس کیا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ اُٹھ رہا ہے جو قریب ہے کہ مجھے جلا کر راکھ کر دے۔اس وقت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی شیبہ میرے قریب آجاؤ۔جب میں آپ کے قریب پہنچا تو آپ ﷺ نے میرے سینہ پر اپنا دست مبارک پھیرا اور فرمایا شیبہ خدا تعالیٰ تمہیں شیطانی خیالات سے نجات دے۔شیبہ کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کے ساتھ میرے دل سے ساری عداوتیں دور ہو گئیں اور آپ ﷺ مجھے دنیا کی ہر شے سے زیادہ عزیز ہو گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا شیبہ آگے بڑھو اور لڑو۔تب میں آگے بڑھا اور اس وقت میرے دل میں اس کے سوا اور کوئی خواہش نہ تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کروں۔اگر اس وقت میرا باپ زندہ ہوتا اور میرے سامنے آجاتا تو میں اپنی تلوار اس کے سینہ میں گھونپ دینے سے دریغ نہ کرتا۔سیرت ابن ہشام اسلام لانے کے بعد حضرت عبد الرحمان جو حضرت ابوبکر کے بیٹے تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ جنگ احد میں جب کہ میں مسلمان نہیں تھا۔آپ ایک دفعہ میری تلوار کی زد میں آگئے لیکن میں نے اس لئے آپ پر حملہ نہ کیا کہ آپ میرے والد ہیں حضرت ابو بکر نے بے ساختہ فرمایا کہ تمہاری خوش قسمتی تھی جو تم بچ گئے ورنہ اگر میرے سامنے تم اس وقت آجاتے تو تم نہ بچ سکتے کیونکہ اس وقت تم آنحضرت ﷺ کے خلاف جنگ کر رہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عشق کہ آپ ﷺ کی خاطر ایک باپ اپنے بیٹے کی پرواہ نہ کرے آپ ﷺ کے کمالات قدسیہ کا کتنا بھاری کرشمہ ہے۔جنگ حنین کا ایک اور واقعہ ہے کہ ابوسفیان بن حارث جو چند دن قبل آپ کی جان کا دشمن تھا اور آپ کے مقابلہ میں کفار کے ساتھ شامل ہو کر لڑتا تھا۔رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھا۔جب کفار کے اونٹ پیچھے دوڑے تو ابوسفیان نے فوراً اپنے گھوڑے سے کود کر آنحضرت ﷺ کے خچر کی رکاب پکڑ لی۔ابوسفیان کی روایت ہے کہ اس وقت کھینچی ہوئی تلوار میرے ہاتھ میں تھی اور میں اس پختہ ارادہ سے آنحضرت ﷺ کے نچر کے ساتھ کھڑا تھا کہ کوئی شخص مجھے مارے بغیر رسول اللہ ﷺ تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔یہ رسول کریم