خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 47
پیدا ہوا جس کا نقشہ قرآن کریم ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا (الفتح: 30 کہ اصحاب محمد رسول اللہ لہ کفار کے مقابلہ میں تو بڑے سخت ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کیلئے بڑے ہی رحیم بڑے ہی شفیق اور بڑے ہی مہربان ہیں۔ایک جنگ کا واقعہ ہے کہ حضرت عکرمہ حضرت حارث اور حضرت سہیل زخمی ہو گئے حالت خطر ناک تھی۔ایک شخص پانی لایا حضرت عکرمہ کو پانی پلانا چاہا انہوں نے کہا پہلے سہیل کو جا کر پلاؤ سہیل کے پاس پانی لے کر گیا تو کہنے لگے پہلے حارث کو پلاؤ۔حارث کے پاس پانی لے کر پہنچا تو انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مکرمہ کو پلاؤ۔جب پھر عکرمہ کے پاس پہنچاتو دیکھا کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے۔سہیل ٹیک گیا تو وہ بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو چکے تھے آخر میں حارث کے پاس پہنچا تو اتنے عرصہ میں وہ بھی بغیر پانی پئے ختم ہو چکے تھے۔ان میں ایثار کا جذبہ کس نے پیدا کیا کس نے ان کو وحشی انسان سے با اخلاق انسان اور باخلاق انسان سے باخدا انسان بنا دیا۔یہ صرف رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔کہتے ہیں یورپ کے نادان نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کا پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار یہ بتاتا آدمی وحشی کو ہے اک معجزه معني راز نبوت ہے اسی آشکار نور لائے آسماں خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی صداقت کا ایک بین ثبوت ہے کہ جب وہ اپنے انبیاء دنیا میں بھجواتا ہے تو ان کے ماننے والوں میں آپس میں محبت پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔هَـوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَالَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ الَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ