خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 633
ہوتی ہے۔633 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ بچی راحت دنیا اور دنیا کی چیزوں میں ہرگز نہیں ہے حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام شعبے دیکھ کر بھی انسان سچا اور دانگی سرور حاصل نہیں کر سکتا۔تم دیکھتے ہو کہ دولت مند زیادہ مال و دولت رکھنے والے ہر وقت خنداں رہتے ہیں۔مگر ان کی حالت جرب یعنی خارش کے مریض کی سی ہوتی ہے جس کو کھجلانے سے راحت ملتی ہے لیکن اس خارش کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یہی کہ خون نکل آتا ہے پس ان دنیوی اور عارضی کا میابیوں پر اس قدر خوش مت ہو کہ حقیقی کامیابی سے دور چلے جاؤ بلکہ ان کا میابیوں کو خداشناسی کا ایک ذریعہ قرار دو اپنی ہمت اور کوشش پر نا زمت کرو اور مت سمجھو کہ یہ کامیابی ہمار کسی قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ سوچو کہ اس رحیم خدا نے جو بھی کسی کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرتا ہے ہماری محنت کو بار آور کیا۔اس لئے واجب اور ضروری ہے کہ ہر کامیابی پر مومن اللہ تعالیٰ کے حضور سجدات شکر بجا لائے کہ اس نے محنت کو اکارت تو نہیں جانے دیا۔اس شکر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھے گی اور ایمان میں ترقی ہوگی۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 98) پس اپنی کسی قربانی پر نازاں نہیں ہونا چاہئے۔تکبر نہ پیدا ہو،فخر نہ پیدا ہو ہر قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے کہ اس نے کتنا بڑ افضل کیا کہ اس قربانی میں شرکت کرنے کا موقع دے دیا۔نئی قربانیوں کی طرف جن کا ہم سے مطالبہ کیا جائے قدم آگے بڑھانا ہے پس دعائیں کریں بے حد دعا ئیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں انفرادی طور پر بھی اور من حیث القوم بھی حاصل رہے۔جلسہ سالانہ کے ان مبارک ایام میں ہم میں سے ہر ایک کا سر عاجزی کے ساتھ دعاؤں کے لئے خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکا رہے ہر زبان پر تسبیح ہو اور ہر عورت کے لبوں سے درود کی آواز آرہی ہو۔روحانی زندگی کے لئے جس میں کوئی کھوٹ نہ ہو بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ۔(الانفال: 25) اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو۔جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے پکارے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہنا اور آپ کے بتائے ہوئے لائحہ عمل پر چلتے چلے جانا ہی ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ اس کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کر سکتی ہیں۔