خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 632
632 جائیں۔اور اس کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اس کا شکر ادا کریں بے انتہا شکر کہ ہم عاجز بندیوں نے جو خدمات سرانجام دیں یہ اس کی دی ہوئی توفیق اور اسی کا فضل تھا۔جو کچھ اس کے حضور پیش کیا پھر بھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ہر قدم پر ہمیں دعا کرتے رہنا چاہئے جیسا کہ ہمارے آقا حضرت خلیفہ اصبح الثالث ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے لجنہ اماءاللہ کو ایک نیا لائحہ عمل عطا فرمایا ہے جس کی تین بڑی شقیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر عمل کرتے ہوئے ہمارے لئے کام کرنے کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔سب سے پہلی ہدایت آئندہ کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ نے احمدی مستورات اور ممبرات لجنہ کو دعاؤں پر زور دینے اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی دی ہے۔انسانی زندگی کا مقصد اپنے رب حقیقی کا عبد اسی دنیا میں بننا ہے اگر انسان کا اپنے خالق اور مالک سے تعلق ہی پیدا نہ ہو تو اس کی پیدائش کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے یہ سلسلہ حیات وموت اللہ تعالیٰ نے اسی لئے جاری فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو بھی آزمائش ہو اور قوم کی اجتماعی کوششوں کے نتیجہ میں قوم کی بھی آزمائش ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرِ نِ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۔(سورۃ الملک: 32) اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔”دنیا کی کامیابیاں ابتلاء سے خالی نہیں ہوتی ہیں۔قرآن شریف میں آیا ہے۔خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوةَ لِيَبْلُوَكُمُ یعنی موت اور زندگی کو پیدا کیا۔تا کہ ہم تمہیں آزمائیں کامیابی اور نا کامی بھی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔کامیابی ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے۔جب کسی کو اپنے کامیاب ہونے کی خبر پہنچتی ہے تو اسمیں جان پڑ جاتی ہے اور گویانئی زندگی ملتی ہے اور اگر نا کامی کی خبر آجائے تو زندہ ہی مر جاتا ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 97) انسان کی فردی یا اجتماعی ہر دو ابدی زندگیوں کا راز بھی خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہونے پر منحصر ہے۔جس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے اور جس کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے وہ خدا کی راہ میں مرتا ضرور ہے لیکن مرکز ابدی حیات اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر لیتا ہے جس کے نتیجہ میں اسے سچی خوشحالی حاصل