خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 634 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 634

634 لجنہ اماءاللہ کے ابتدائی مقاصد جو حضرت مصلح موعود نے ترتیب دئے ان میں سے ایک ضروری ارشاد حضور کا یہ بھی تھا کہ لجنہ اماءاللہ کی تمام کا روائیاں جماعت میں وحدت کی روح قائم رکھنے کے لئے جو بھی خلیفہ وقت ہو اس کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور اس کی ترقی کو مد نظر رکھ کر ہوں۔بالفاظ دیگر اپنی عقل سمجھ سے ایک کام کرنے میں وہ برکت اور ثواب حاصل نہیں ہوسکتا جو خلیفہ وقت کی تیار کردہ سکیم کے مطابق اور آپ کی اطاعت میں اس سکیم کو فروغ دینے میں ہوسکتا ہے۔آئندہ سالوں کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو ہدایات دی ہیں ہر لجنہ اماءاللہ کو بحیثیت مجموعی بھی اور ہر احمدی عورت کو انفرادی طور پر بھی عمل کرنا چاہئے کہ یہ ہدایات ہماری انفرادی روحانی زندگی کے لئے بھی ہیں اور اجتماعی ترقی کے لئے بھی ہیں۔پچاس سالہ موڑ سے گذر کر جو راستہ ایک نئی منزل کی طرف جاتا ہے اس پر کامیابی سے چلنے اور منزل تک پہنچنے کے لئے ان ہدایات ہر عمل کرنا بے حد ضروری ہے اور ان ہدایات میں سے پہلی ہدایت نماز تہجد کی باقاعدگی اور دعاؤں پر زور دینا ہے۔انتہائی عاجزی اختیار کرتے ہوئے فنا کا جبہ پہننا ہے۔تمام لجنات کو اپنے پروگرام آئندہ سال ایسے بنانے چاہئیں جن میں ممبرات کو نماز تہجد کی پابندی اور دعاؤں کی تلقین کی جائے۔اور ہرممبر لجنہ اماءاللہ کا کردار، اخلاق اس کی زندگی سب اسلامی تعلیم کے سانچے میں ڈھلے ہوں، ہماری عہدہ داران کو چاہئے کہ اپنے عمل سے بھی اور اپنی تلقین ونصیحت سے بھی اتنا چرچا کریں کہ ہر احمدی خاتون نماز تہجد کی عادی ہو جائے۔دوسرا ارشاد حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اپنے معاشرہ کو حسین اور حسین تر بنانے کے متعلق پردہ کا ہے۔پردہ کرنا بھی احکام الہی میں سے ایک حکم ہے۔خدا تعالیٰ کے کسی بھی حکم کو دانستہ توڑنے والی بہن اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں کر سکتی۔اس کے فضلوں کو جذب نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کر وایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔“ روحانی خزائن جلد 19 - کشتی نوح صفحہ 26