خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 627
627 میری عزیز بہنو! اپنے نفس کا جائزہ لیں۔کیا آپ میں سے ہر ایک اس معیار پر پوری اترتی ہے۔اگر نہیں تو آپ کو سوچنا چاہئے کہ گزشتہ پچاس سال کی جدو جہد میں ابھی تک ہم اس منزل تک کیوں نہیں پہنچ سکے۔غفلتوں کو ترک کریں۔دنیا پر دین کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی اولادوں کو اس آگ سے محفوظ رکھیں جس کا شکار دنیا پرست قو میں ہو رہی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ ہر جگہ قرآن مجید با ترجمہ سکھانے کا انتظام کیا جائے۔ہر موصی خاتون کم از کم دو کو قرآن مجید پڑھائے۔لیکن ابھی تک اس طرف ویسی توجہ نہیں دی گئی۔جیسی دی جانی چاہئے تھی۔ایک احمدی خاتون اور ایک احمدی بچی ایسی نہیں ہونی چاہئے جسے قرآن نہ آتا ہو۔جسے یہ نہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور کن باتوں سے منع فرمایا ہے۔سینکڑوں غلطیاں ہم صرف نادانستگی سے اس لئے کر جاتے ہیں کہ ہمیں ان کے متعلق ارشاد باری کا علم نہیں ہوتا۔ہمیں اس اجتماع سے واپس صرف خوشیوں کا اظہار کر کے نہیں چلے جانا چاہئے کہ پچاس سال پورے ہونے پر ہم نے خوشی کی ایک تقریب پیدا کی۔بلکہ ہمیں ایسی تدابیر سوچنی چاہئیں جن کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ قرآنی علوم کی اشاعت ہو۔زیادہ سے زیادہ خواتین اور بچے قرآن پڑھ سکیں۔زیادہ سے زیادہ اس بات کی تلقین کی جائے کہ ہر احمدی خاتون کا عمل اور کردار قرآنی تعلیم کے مطابق ہو اور یہ منزل یہ راہ بغیر نفس کی قربانی بغیر جذبات کی قربانی، بغیر خواہشات کی قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔اس طرف اشارہ فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے یہ راہ سولعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کر وصدق سے قبول تا تم پہ ہو ملائکہ عرش کا نزول اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فتا ترک رضائے خویش پئے مرضی خدا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ابدی حیات حاصل کرنے کے لئے اور اپنی قوم کو ابدی حیات بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم قربانی دیں اپنے اوقات کی اور قرآن سیکھیں ، دینی علوم سے اپنے سینوں کو منور کریں اور اس نور سے اپنی اولادوں کو فائدہ پہنچائیں ہم قربانی دیں اپنے جذبات اور خواہشات کی۔احمدیت کی ترقی کی خاطر سادہ زندگیاں اختیار کریں۔تکلفات کو ترک کریں اور رسومات سے منہ