خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 626
626 ہمارے ایمانوں میں اضافہ ہوا ہے۔اور بے اختیار ہمارے دلوں سے نکلتا ہے۔اللَّهُمْ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سنا۔اس کے لفظ لفظ پر عمل کرنا اور اپنی زندگیاں اس کے مطابق گزارنا آپ کا فرض اولین ہے۔ہماری تعلیم کا مرکزی نقطہ اطاعت اور کامل اطاعت ہے۔جس بہن نے یہ سبق ذہن نشین کر لیا وہ یقینا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی۔گزشتہ کئی سال سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبوں، اجتماع اور جلسہ سالانہ کی تقاریر میں آپ کو اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کریں۔اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی انہی پر نازل ہوں گے جو قربانیوں کی بھٹی میں سے گزریں گی۔کئی بیرونی ملکوں کی خواتین عظیم الشان قربانی کا نمونہ پیش کر رہی ہیں۔وہ بعد میں آئیں اور کئی لحاظ سے ہم سے آگے نکل رہی ہیں۔ہمارے لئے اس وقت ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔فوج در فوج لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے جن میں عورتیں بھی ہوں گی اور بچے بھی ہوں گے ہم جنہیں احمدیت کی نعمت اللہ تعالیٰ نے عطا کی اگر ان کی تربیت کرنے کے لئے اور ان کو دینی تعلیم دینے کے لئے ہم نے خود کو تیار نہ کیا تو ہم نہ صرف جماعت کو نقصان پہنچانے کا موجب بنیں گی۔بلکہ جماعت میں نئی داخل ہونے والی مستورات کا تاثر ہمارے متعلق یقینا خوش آئند نہیں ہوگا۔احمدیت کا روحانی انقلاب جو بہت جلد رونما ہونے والا ہے اور جس کے آثار ہر بصیرت رکھنے والے کو نظر آ رہے ہیں ضروری ہے کہ احمدی عورت اور ہر ممبر لجنہ اس کے لئے تیاری کرے۔خود دین سے واقف ہو۔اپنے بچوں کو دینی تعلیم دے۔قرآن سکھائے۔ترجمہ پڑھائے۔احادیث نبی کریم ﷺ اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے واقف کروائے تا ہماری جماعت کا بچہ بچہ اسلام کا ایک مضبوط ستون بن جائے۔لجنہ اماءاللہ قائم کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا:۔اس بات کی ضرورت ہے کہ بچوں کی تربیت میں اپنی ذمہ داری کو خاص طور پر سمجھو اور ان کو دین سے غافل اور بد دل اورست بنانے کی بجائے چست، ہوشیار، تکلیف برداشت کرنے والے بناؤ اور دین کے مسائل جس قدر معلوم ہوں ان سے ان کو واقف کرو اور خدا، رسول، مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی محبت، اطاعت کا مادہ ان کے اندر پیدا کرو۔اسلام کی خاطر اور ان کی منشاء کے مطابق اپنی زندگیاں خرچ کرنے کا جوش پیدا کرو۔اس لئے اس کام کو بجالانے کے لئے تجاویز سوچو اور ان پر عمل درآمد کرو۔“ تاریخ لجنہ جلد اول صفحہ 68