خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 628 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 628

628 پھیر لیں۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کو بار بار اس طرف توجہ دلا چکے ہیں حتی کہ حضور نے فرمایا:۔میں ہر احمدی کے گھر کے دروازہ پر کھڑے ہو کر اور ہر گھرانہ کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوگا وہ یہ یادر کھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پرواہ نہیں وہ اس طرح جماعت سے نکال کے باہر پھینک دیا جائے گا جس طرح دودھ سے لکھی۔“ لیکن ابھی تک سینکڑوں احمدی گھرانے رسومات کی لعنتوں میں گرفتار ہیں۔جس کی وجہ سے وہ جماعت کی ترقی میں روک بنے ہوئے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ رسومات کے طوق گلوں سے اتار کر پھینک دیئے جائیں اور ایک صاف، سادہ معاشرہ احمدی جماعت کا ہو جس کی خواتین ہر قسم کی بدعت اور رسم سے آزاد اور پاک ہوں۔اپنی اگلی نسل کو دین دار بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم خودان بُرائیوں کو ترک کریں اور اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں۔اور کل حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پردہ کے متعلق بھی تنبیہہ کی ہے۔خدا کرے آپ میں سے جو کمزور ہیں وہ وقت پر سنبھل جائیں اور اپنی عملی کمزوریوں کو دور کریں۔پھر نہایت ضروری ہے کہ احمدی مائیں اپنے جگر گوشوں کو اسلام کی خاطر وقف کریں۔ایک مرد اگر اپنے آپ کو وقف کرتا ہے تو اس کا ثواب صرف اسے ملتا ہے لیکن ایک ماں اپنے بچہ کوخدا تعالیٰ کی خاطر وقف کرتی ہے تو جہاں اس کے بیٹے کو ثواب ملے گا وہاں اس ماں کو بھی ملے گا جس کی گود سے وہ نونہال پروان چڑھا ہوگا۔موجودہ مالی دور میں وقف زندگی کی طرف اتنی توجہ نہیں رہی جتنی ہم سے پہلے احباب جماعت میں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ کر دیا مسیح میں آبسے اور نہایت ہی کم گزارہ میں دین کی خدمت میں زندگیاں گزار دیں۔اس نمونہ کو پھر سے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اب ضرورت ہے۔بچہ سب سے زیادہ ماں کا اثر لیتا ہے۔اگر ماں اس کے کان میں یہ ڈالتی رہے کہ تم نے بڑے ہو کر دین سیکھنا ہے۔دین کی خدمت کرنی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ خود بڑے ہو کر اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے نہ پیش کرے۔پس میری بہنو! اس وقت مادیت ، دنیا پرستی ، دنیاوی عیش و عشرت اور لالچ کی ایک آگ ہے جو ہماری